تأثرات

by Other Authors

Page 46 of 539

تأثرات — Page 46

تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 41 ”ہمارا طریق یہ ہے کہ ہم ایک دفعہ کسی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیں تو پھر بھی ہاتھ نہیں کھینچتے۔الفضل انٹر نیشنل 6 تا 12 جون 2008ءصفحہ 9) اس موقع پر ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے نمائندگان نے بھی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے گفتگو کی اور مختلف سوالات کیے جن کے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت جواب دیئے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بین کی حکومت کا شکریہ ادافرمایا اور اپنے اس دورے کے مقاصد بیان فرمائے۔بینن کے بارڈر پر استقبالیہ تقریب سے خطاب: بارڈر کے ساتھ ہی ایک شامیانہ لگا کر استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔تلاوت قرآن کریم کے بعد وزیر مملکت اور بادشاہوں کے نمائندگان نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی شان میں استقبالیہ کلمات کہے جس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطاب میں فرمایا: میں تمام بادشاہوں، وزرا، حکومتی اہل کاروں اور تمام ممالک کے نمائندوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے یہاں پہنچنے کی زحمت اٹھائی اور پھر والہانہ استقبال کیا۔آپ لوگوں کی یہاں موجودگی سے علم ہوتا ہے کہ جماعت کے حکومت کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔کوئی بھی کمیونٹی (Community) صحیح طور پر اس ملک میں کام نہیں کر سکتی جب تک حکومت اور روایتی چیفس کا اس کے ساتھ مکمل تعاون نہ ہو۔اس لیے اگر آپ اسی طرح جماعت کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے تو جماعت کو مؤثر انداز میں خدمت کا موقع مل سکے گا۔“ الفضل انٹرنیشنل 6 تا 12 جون 2008 صفحہ 9) احمد به یہ مشن ہاؤس پورتونو وو (Portonovo) میں آمد: بارڈر سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے قافلے کو Escort کرتے ہوئے پولیس کی گاڑیاں پور تو نو وو مشن ہاؤس لے کر آئیں۔سڑک پر دونوں طرف تقریباً تین کلو میٹر تک احباب استقبال کے لیے کھڑے تھے اور ہاتھ ہلاہلا کر، اهلا و سهلا و مرحبا کہ کر اور نعرہ ہائے تکبیر، احمد بیت زندہ باد، خلافت احمد یہ زندہ با داور حضرت خلیفہ اسیح الخامس زندہ باد کے نعرے لگا لگا کر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو بینن میں خوش آمدید کہہ رہے تھے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا قافلہ Cotono سے ہوتا ہوا Portonovo مشن ہاؤس پہنچا۔رستے میں اللہ تعالیٰ نے گرمی کی شدت کا توڑ اس طرح فرمایا کہ جیسے ہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا قافلہ مشن ہاؤس کے لیے