تأثرات — Page 296
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 268 ماحول کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ خود غرض اور اپنے مفاد کے حصول کے لیے دوسروں کے حقوق غصب کرنے والوں سے بچا جائے۔خدا تعالیٰ نے جو علم اور حکمت عطا فرمائی ہے تو اس کو معاشرہ میں سوسائٹی میں امن و صلح کے قیام کے لیے استعمال کیا جائے۔“ (الفضل انٹر نیشنل۔9 تا 15 جنوری 2009ء۔صفحہ نمبر 2) میڈیا کے تاثرات: میڈیا نے اس استقبالیہ کو بہت زیادہ اہمیت اور کوریج دی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطاب کو خصوصاً بہت سراہا گیا اور اس کے اقتباسات مختلف اخبارات نے اپنی اشاعت کی زینت بنائے۔میں لکھا: ☆ احمدیہ ملیالم زبان کے اخبار Mathrubhumi نے اپنی 17 نومبر 2008ء کی اشاعت عورتیں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔مرزا مسرور احمد یہ مسلم خلیفہ نے فرمایا کہ عورتیں اور بچیاں اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں کوشاں رہیں۔جماعت احمدیہ کے روحانی راہنما نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے تین باتوں پر بیعت لی تھی۔ایک شرک نہیں کریں گی، دوم بچوں کو قتل نہیں کریں گی ، سوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام حکموں کی پابندی کریں گی اور نافرمانی نہیں کریں گی۔بچوں کو قتل نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کو گمراہی کی راہ میں نہیں ڈالیں گی اور بداخلاقی کے رجحانات ان میں پیدا نہیں کریں گی۔ماں کی سب سے بڑی ذمہ داری بچوں میں نیکی پیدا کرنا ہے۔“ الفضل انٹرنیشنل - 9 تا 15 جنوری 2009ء صفحہ نمبر 9،2) اسی اخبار نے اپنی 27 نومبر 2008ء کی اشاعت میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی رنگین تصویر کے ساتھ انٹرویو شائع کرتے ہوئے لکھا: انتہا پسندی کا سبب مذہب نہیں۔مرزا مسرور احمد احمد یہ خلیفہ نے اخبار ماتر و بھومی Mathrubhumi کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سبب مذہب نہیں بلکہ مطلب پرستی اور خود غرضی ہی