تأثرات

by Other Authors

Page 297 of 539

تأثرات — Page 297

تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 269۔انتہا پسندی کا سبب ہے۔نا انصافی کے خلاف ہی معاشرے میں رد عمل پیدا ہوتا ہے لیکن جب یہ رد عمل صحیح طریق پر نہ ہو تو مطلب پرستی اس کو اپنی موافقت میں کر لیتی ہے۔یہ سوچنے کی بات ہے کہ لوگوں میں یہ رد عمل کیوں پیدا ہوتا ہے۔مثلاً عراق کے بہت سارے لوگ خیال کرتے ہیں کہ عراق پر حکومت امریکن سرکار کی ہے۔یہ خیال تشدد اور انتہا پسندی کو جنم دیتا ہے۔ہر ملک دیگر ممالک کے وسائل پر نظر رکھنے کی بجائے اپنے وسائل کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔حکومتوں کو اپنے تنازعات کو باہم مشورے سے حل کرنا چاہیے۔ایک ملک جب دوسرے ملک پر حملہ کرتا ہے تو حالات میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ایسی صورت حال پیدا ہو تو دوسرے ممالک کو دخل دینا چاہیے۔یہ قرآن مجید کی تعلیم ہے۔دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرنے سے بحران اور بے چینی دُور ہو جاتی ہے۔ایک شخص کے حقوق جب پامال کیے جاتے ہیں تو وہ اپنا رد عمل دکھاتا ہے لیکن یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ رد عمل صحیح طریق پر ہو۔انتہا پسندی کے اسباب ہر ملک میں مختلف ہوتے ہیں۔اُنہوں نے عالمگیریت کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ زراعت کے شعبہ میں حکومتوں کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس وقت شہروں کی طرف حکومتیں زیادہ توجہ دیتی ہیں اس کے نتیجہ میں لوگ گاؤں کو چھوڑ کر شہروں کی طرف رُخ کرتے ہیں۔اس وجہ سے بیروزگاری پیدا ہوتی ہے۔اس کا ایک حل زراعت کو وسعت دینا ہے۔انہوں نے بتایا کہ انسان کا پہلا حق خوراک ہوتا ہے۔ہندوستان کا موسم ہر قسم کی زراعت کے لیے موافق ہے۔ہندوستان اس کے لیے بہت کچھ کر رہا ہے۔ہمارے پاس ہر قسم کے زراعت کے ماہرین موجود ہیں لیکن نچلے طبقے میں کسانوں کی مدد کے لیے کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی احمدیوں کے خلاف امتیاز برتا جاتا ہے۔وہاں کے قانون کی رُو سے احمدی مسلمان نہیں۔جنرل ضیا نے اس سلسلہ میں قانون کو بہت سخت کیا ہے۔قانون کو سختی سے جاری کرنا، اس کو جاری کرنے والے عہدے داروں پر منحصر ہوتا ہے۔اس قسم کے ظالمانہ قانون کی وجہ سے بعض لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔اس طرح ذہین اور قابل شخصیتوں سے ملک محروم ہو جاتا ہے۔دیگر اسلامی ممالک میں بھی ہمیں تکلیف اٹھانا پڑ رہی ہیں۔ملائشیا میں بھی قانون بنا ہے۔حال ہی میں انڈونیشیا میں بھی شور بلند ہوا ہے۔