تأثرات — Page 294
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء جو تعلق اور وفا کا اظہار سب مردوزن اور بچوں نے کیا وہ بھی حیرت انگیز تھا۔۔یہ لوگ اخلاص و وفا میں بہت بڑھے ہوئے ہیں۔کئی ایسے ہیں جنہوں نے گزشتہ چند سال پہلے ہی بیعت کی اور جماعت میں شامل ہوئے لیکن اخلاص و وفا میں بہت بڑھ گئے ہیں۔اس طرح جماعتی نظام میں سموئے گئے ہیں کہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ نئے احمدی ہیں یا پرانے احمدی ہیں۔خدمات میں پیش پیش ہیں۔کئی ہیں جن کے پاس اہم جماعتی عہدے ہیں اور بڑے احسن طریق سے خدمات بجا لا رہے ہیں۔جماعتی نظام کو سمجھنے کے لیے اور اپنے معیار بہتر کرنے کے لیے وہ بار بار سوال کرتے رہے اپنے علم میں اضافہ کی کوشش کرتے رہے تا کہ جماعتی کاموں کو صحیح طرز پر اور صحیح نہج پر چلا سکیں۔تو اس قسم کے نئے احمدی ہیں جو ہر جگہ ہونے چاہئیں۔صرف بیعتیں کروانے کا کوئی فائدہ نہیں۔“ 266 ( خطبه جمعه فرمودہ 12 دسمبر 2008ء۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۔2 تا 8 جنوری 2009ء صفحہ نمبر 6) صوبہ کیرالہ کی حکومت اور ان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: صوبائی حکومت نے بھی وہاں کافی تعاون کیا۔ایک احمدی پولیس افسر دے دیا جو اپنی ٹیم کے ساتھ آئے ہوئے تھے لیکن عموماً لوگوں کا اپنا تعاون بھی بڑا اچھا تھا۔روزانہ کم از کم دو دفعہ مسجد جانے کے باوجود یہ نہیں تھا کہ لوگ تنگ آئے ہوں یا ان کو ایک طرف روکا جاتا ہو۔بعض دفعہ ٹریفک خود بخود رک جاتی تھی اور خود شوق سے راستہ دے دیتے تھے اسی لیے میں نے کہا کہ اس زمین سے صحیح رنگ میں احمدیوں کو فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی 66 چاہیے۔" ( خطبه جمعه فرمودہ 12 دسمبر 2008ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل۔2 تا 8 جنوری 2009ء صفحہ نمبر 6) کو چین کے دورہ کے حوالے سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ریسیپشن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں بھی ایک ایم پی مہمان تھے اور دیگر لوگوں نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”مجھ سے اکثر نے یہی اظہار کیا کہ جس طرح تم لوگ اسلام کی تعلیم بیان کرتے ہو تم لوگوں سے ہی توقع رکھی جاسکتی ہے کہ دنیا میں امن قائم کر سکو بلکہ وہاں ایک ریسرچ سکالر ہیں انہوں نے اپنی تجاویز بھی لکھ کے دی تھیں۔بہر حال ان کا تو اپنا انداز ہے لیکن خلاصہ یہی تھا کہ دنیا میں نیکی قائم کرنے کے لیے تم لوگ ہی ہو جو کچھ کر سکتے ہو۔عمومی طور پر بہر حال بڑا اچھا اور باشمر دورہ تھا۔احمدیوں کو تربیتی لحاظ سے بڑا فائدہ ہوا۔بچوں بڑوں اور سب کا جماعت سے اخلاص کا تعلق مضبوط ہوا۔اب جو خطوط کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس دورے نے وہاں جماعت میں ایک نئی روح