تصدیق براھین احمدیہ — Page 82
۸۲ تصدیق براہین احمدیہ معدوم شی ہرگز موجود ارواح کا مادہ نہیں۔اور کوئی ایسی چیز نہیں کہ اس کے اجزا اور مادہ موجود ہوں اور وہ چیز نیستی یعنی کچھ بھی نہ ہو۔اور دوسرے معنے پر کہ نیستی جو کچھ بھی نہیں وہ ارواح کی علت نہیں اور نہ ممکن ہے کہ عدم محض ہمارا یا ہمارے ارواح کا خالق ہو۔بلکہ ہمارا خالق اور موجد اور مبدع موجود ہے۔اسی موجود حقیقی اور اسی کی طاقت اور قدرت سے ہم کو وجود مرحمت ہوا۔پس اگر آپ کے دعوئی کے یہی معنے ہیں تو آپ کو اس بے فائدہ دلیل کی کوئی ضرورت نہ تھی۔اور پھر آپ کا دعویٰ اور دلیل ایک ہے ! تعجب ہے؟ آپ نے دلیل میں لکھا ہے۔”عدم ان پر کسی طرح طاری نہیں“ اور دلیل کا یہ جزو اور یہ دعوی بلا دلیل چھوڑ دیا ! اور جو آپ نے ثابت کیا اور وہی آپ کا مقصود تھا۔وہ بعینہ آپ کا دعوئی نہ تھا۔کیونکہ آپ کے دعوی میں روح کا ذکر بھی نہیں۔مقصود میں ثابت کیسے کیا۔ذرا غور کیجئے آپ کی دلیل کا ایک اور نتیجہ آپ کو سناؤں۔ہاں غور کیجئے۔خود بدولت منشی لیکھر ام پشاوری ساتھ اس ترکیب موجودہ اور ہیئت حاصلہ اس وقت کے جو ۱۸ بھادوں سم میں ۴۶ ان کو حاصل ہے اور اب موجود ہیں اس ترکیب اور اس ہیئت کے ساتھ رحم میں آنے سے پہلے کہیں موجود تھے یا نہ تھے؟ اگر نہ تھے تو ضرور کہیں بھی نہ ہوں گے۔اور بموجب علوم نمبر ۲ وہ عدم خانہ سے برآمد نہیں ہو سکتے کیونکہ بموجب علوم متعارفہ نمبر جو چیز جہاں ہوتی ہے وہی وہاں سے برآمد ہوتی ہے۔چونکہ اب وہ بائیں شکل موجود ہیں اسی واسطے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ پہلے بھی بایں شکل کہیں تھے اور ایسی شکل کے ساتھ تھے ورنہ اب بھی اس شکل کے ساتھ نہ ہوتے۔اور اس صورت کا عدم بھی ان پر کسی طرح جائز نہیں۔لہذا ثابت ہوا کہ منشی صاحب رحم میں آنے سے پہلے ہمیں ہیئت موجودہ تھے۔نیستی سے ہستی میں نہیں آئے۔مگر اب تعجب یہ ہے کہ وہاں ہمیں ہیئت اتنا بڑا جسم لے کر کیسے داخل ہوئے! اور جب موت آئی جنم بدلا۔تو اگر چیونٹی کا جسم ان کو مرحمت ہوا تو اس کے رحم میں ہمیں ہیئت جو قدیم ثابت ہوئی کیسے داخل ہوں گے کیونکہ موجودہ ہیئت کی نیستی بقول آپ کے ممکن نہیں۔اگر حامیان تکذیب میں سے کسی صاحب کو خیال ہو کہ منشی صاحب بلحاظ اپنے ہر دوا جزا کے جو مادہ