تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 83 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 83

تصدیق براہین احمدیہ ۸۳ اور روح ہیں پہلے موجود تھے نہ بایں جسم اور ہیئت کذائیہ تو انہیں یادر ہے کہ اہل اسلام کے نزدیک بھی روح بلحاظ علم الہی پہلے موجود تھی معدوم محض نہ تھی۔تکذیب۔روحیں ابدی ہیں اس واسطے ازلی یا انا دی بھی ہیں“۔دلیل یہ ہے نمبرا ابدی ہونا مسلم فریقین ہے اس واسطے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔نمبر ۲۔ابد کے معنی وہ زمانہ جس کی انتہا نہ ہو۔اور ازلی کے معنے وہ زمانہ جس کی ابتدا نہ ہو۔نمبر ۳۔اب مقام غور ہے کہ ابدی روحیں کیوں ابدی ہیں وجوہ ظاہر ہیں۔نمبر ۴۔اول وہ مرکب نہیں کہ ترکیب پذیر ہوں دوم وہ چین اور لطیف جو ہر ہیں۔اس واسطے وہ مردہ نہیں ہوسکتیں۔على هذا نمبر ۵۔اب اگر انہیں وجوہات کو منقلب کریں تو ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدا ماننا صرف پیدائش کی غرض سے ہے ورنہ جس کی پیدائش نہیں اس کی ابتدا نہیں۔نمبر 4 تو روحیں ترکیب پذیر اور نہ منقسم ہونے والی چیز ہے۔پھر ان کی پیدائش کس طرح ہوئی۔نمبرے۔کیونکہ ہر ایک چیز ترکیب پذیر کا انحلال لازمی ہے۔اور وجود بعد العدم کا نام حادث ہے۔نمبر ۸۔مگر جب روحوں پر عدم نہیں حدوث بھی لازم نہیں ہوتا۔کیونکہ بہ حکم علوم متعارفہ نمبر 11 کے ناممکن اور اسنبھو ہے۔جس طرح ایک کنارہ کا دریا ناممکن ہے جس طرح آفتاب میں اندھیراناممکن ہے۔نمبر ۹۔ویسے ہی ابدی کا حادث ہونا ناممکن ہے۔کیونکہ بحکم نمبرے علوم متعارفہ کے یہ اجتماع ضدین باطل ہے لہذ ا ثابت ہوا کہ روحیں انا دی ہیں اور یہی مطلوب ہے۔مصدق۔مکذب صاحب غور کریں فقرہ نمبر ۵ میں آپ نے کہا ہے اگر انہیں وجوہات کو منقلب کریں، لاکن وجوہات کو منقلب کر کے نہیں دکھایا کہ یہ وجوہ کس طرح منقلب ہوتی ہیں اور س طرح اس انقلاب کا نتیجہ وہ نکلا جو آپ نے نکالا۔جو دعوئی فقرہ نمبر 4 میں کیا ہے۔اس کی دلیل سے خاموشی کیوں کی۔پھر فقرہ نمبرے جو دلیل میں ہے۔وہ بالکل بے دلیل ہے۔اور فقرہ نمبر ۸ میں جو دعوئی ہے اول تو وہ بھی بے دلیل ہے۔دوم اس نمبر ۸ میں جو آپ نے لکھا ہے حدوث بھی لازم نہیں اس کے معنے یہ معلوم دیتے ہیں کہ حدوث لازم اور ضروری نہیں۔مگر اس