تصدیق براھین احمدیہ — Page 81
تصدیق براہین احمدیہ Al میں جو اس کتاب کے اخیر میں ہوگا تقدم کی تفصیل کریں گے۔مکذب ” نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی اور نہ ہستی سے نیستی ہو سکتی ہے“۔”اس واسطے روحیں انادی ہیں، نیستی کے معنی یہ ہیں جو کچھ نہیں اور ہستی کے معنی جو کچھ ہو نمبر ۲ اگر روحیں نہ تھیں تو کہیں بھی نہ ہوں گی اور بموجب ( علوم متعارفہ نمبر۲) کے وہ اس عدم خانہ سے برآمد بھی نہیں ہوسکتیں۔کیونکہ بموجب علوم متعارفہ نمبرا جو چیز جہاں ہوتی ہے وہی وہاں سے برآمد ہوتی ہے۔نمبر چونکہ روحیں اب موجود ہیں اس واسطے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ پہلے بھی کہیں تھیں ور نہ اب بھی نہ ہوتیں۔نمبر ۴ ” اور عدم ان پر کسی طرح جائز نہیں۔لہذا ثابت ہوا کہ روحیں انادی نیستی سے ہستی میں نہیں آئیں اور یہی ثابت کرنا ہمارا مقصود تھا۔مصدق - مکذب نے دلیل کے فقرہ اول میں نیستی کے معنوں میں یہ کہا ہے کہ ”جو کچھ نہیں اور نمبر ۲ میں آپ نے فرمایا کہ اگر روحیں نہ تھیں تو کہیں بھی نہ ہوں گی ان دونوں فقروں میں غور کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا یہ منشا ہے کہ اگر روحیں کسی قسم کا وجود نہیں رکھتی تھیں تو وہ موجود نہیں ہوسکتیں۔مگر مکذب صاحب یا د رکھیں کہ اہل اسلام کے نزدیک روحیں قبل از وجود بوجود خارجی باری تعالیٰ کے علم میں موجود تھیں اور علمی وجود سے موجود تھیں ارواح کا خارجی وجود باری تعالیٰ کی کامل قدرت کا نتیجہ اور اس کا اثر ہے۔بطور آپ کے بھی ہم کہتے ہیں ارواح محض نیستی سے ہست میں نہیں آئے بلکہ علمی وجود سے ان کو خارجی وجود بھی عطا ہوا۔گویا ہستی سے ہستی ہوئی نہ نیستی سے ہستی۔وللہ الحمد یہ دعوی کہ ” نیستی سے ہستی نہیں ہوسکتی۔یہ مجمل فقرہ ہے اس کے دو معنے ہو سکتے ہیں اول نیستی کسی ہستی کا مادہ نہیں ہوتی۔دوم نیستی ہستی کی علت فاعلی اور خالق نہیں ہو سکتی۔اب ان دونوں معنوں میں سے کوئی سے معنے لو۔کوئی بھی ارواح کی انادی اور اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے نہ ہونے پر چسپاں نہیں اول معنے کہ نیستی کسی ہستی کا مادہ نہیں ہوتی۔ہم کہتے ہیں سچ ہے۔مگر جب ارواح موجود ہیں تو ان کے موجود ہونے کے تو یہی معنے ہیں کہ ان کا مادہ موجود ہو گیا یا موجود ہے اور ارواح کے مخلوق ہونے کے یہی معنے ہیں کہ ارواح کا مادہ یا وہ مخلوق ہوئی۔کوئی