تصدیق براھین احمدیہ — Page 44
تصدیق براہین احمدیہ ۴۴ اچھا ہم نے بطریق تنزل یہ بھی مانا کہ اسلام نے جنگ کی۔مگر وید میں جنگ کی جس قدر تاکید ہے اور وید کے مخالفوں کے استیصال اور ان کے خطرناک سزاؤں کا جس قدر حکم ہے۔اگر آپ اس کا علم رکھتے بشرطیکہ خوف الہی ساتھ ہوتا تو آپ اور آپ کا کوئی آریہ بھائی اسلام پر جنگ کا الزام دینے کی کبھی جرات نہ کرتا۔ایک مختصر تذکرہ سنا کر وید کے چندا حکام آپ کے دیانندی بھاش سے لکھتا ہوں ذرا بغور ملاحظہ فرمائیے۔لیکن میں اس تذکرہ میں پہلے ان آیات قرآنی کا بھی ذکر کروں گا جن پر ہمارے مخالفوں کے خاص اعتراضات ہیں۔فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْ تُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ (التوبة: ۵) اس آیت شریف پر ہمارے بعضے آریہ دوستوں نے خاص توجہ کی ہے اور بڑے بھاری اعتراض کا نشانہ اسے بنایا ہے اس لئے اس آیت کی تصدیق کے واسطے اتماماً للحجۃ آپ کے مقدس رگوید سے چند منتر لکھتا ہوں سینے۔حسب وید مقدس آدمی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک سریشٹ (اچھے) اور دوسرے دیسیو (برے) اور ڈشٹ دیکھو منتر ۸ رگوید منڈل نمبر سوکت نمبر۵۱ اور تکذیب صفحہ۔اور ایسے ہی قرآن نے بھی آدمی کی دو قسمیں بیان کی ہیں شقی و سعید۔ان دشت اور شتر وں کی نسبت جن کو قرآن نے مشرک اور کافر کہا ہے وید کہتا ہے (۱) سیناد بکش آدی لوگ (سپه سالار ) جیسے لوہا کے گہن سے لو ہے اور پاشان ( پتھر ) آدکوں کو توڑتے ہیں ویسے ہی آدھرمی دشٹ شتروں کے ( بے ایمان دشمنوں کے انگوں کو (اعضاء کو ) چھن بھن کر دن رات دھرم آتما پر جاجنوں کے پالن میں تت پر ہوں جس سے شتر و جن ان پر جاؤں کو دکھ دینے کے سامرتھ نہ ہوسکیں۔۔چھے گن کرم اور سبھاؤ والے سجاد بکش راجہ کو چاہئے کہ راج کی رکھیا نیتی اور ڈنڈ کے بہی سے سب لے ان مشرکین کو جہاں پاؤ ما روانہیں پکڑو اور ان کی راہ میں پوری پوری گھات لگاؤ۔دیا نندی بھاش صفحه ۶۹۹ سوکت ۷۳۶