تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 42 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 42

تصدیق براہین احمدیہ ۴۲ تکذیب۔تلوار کے دین اور پیار کے دھرم کا مقابلہ کر کے اور جبر و اکراہ کو محبت و چاہ کے رو بر ولا کر الخ مصدق۔اسلام کے معنے صلح کے ساتھ زندگی بسر کرنا، چین سے رہنا، کیونکر یہ لفظ سلم سے مشتق ہے جس کے معنی صلح اور آشتی کے ہیں بعضے پادریوں کی دشمنانہ تحریر نے ، میں سچ کہتا ہوں آپ کو دھوکہ دیا ہے۔جبر اور اکراہ سے اسلام اور تصدیق قلبی کا حصول ممکن نہیں قرآن کی دوسری سورہ کو جو مدینہ میں نازل ہوئی اور جس میں جہاد کا حکم ہوا ہے پڑھ لیجیئے اور غور کیجیئے آپ کا کلام کہاں تک سچ ہے۔کہاں تکہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (البقرة : ۲۵۷) اسلام میں شرط ہے کہ آدمی صدق دل سے باری تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی معبودیت اور اس کے رسولوں کی رسالت وغیرہ وغیرہ ضروریات دین پر یقین لاوے تب مسلمان کہلاوے اور ظاہر ہے کہ دلی یقین جبر و اکراہ سے کبھی ممکن نہیں ہے۔میں بڑی جرأت سے کہتا ہوں کہ حضور علیہ السلام اور ان کے راشد جانشینوں کے زمانے میں کوئی شخص جبر واکراہ سے مسلمان نہیں بنایا گیا۔بلکہ محمود غزنوی اور عالمگیر کے زمانے میں بھی کوئی شخص عاقل و بالغ جبر سے مسلمان نہیں کیا گیا۔دنیا میں تاریخ موجود ہے صحیح تاریخ میں اس الزام کو ثابت کیجیئے۔میں نے زمانہ نبوی اور خلافت راشدہ کے وقت اور محمود عالمگیر کی تاریخ کو اچھی طرح دیکھ بھال کر یہ دعویٰ کیا ہے۔زمانہ رسالت مآب میں اور خلافت راشدہ میں صلح اور معاہدہ امن کے بعد کل مذہب کے لوگ مذہبی آزادی حاصل کر لیتے تھے۔خیبر کے یہود بحرین اور غسان کے عیسائی ، حضرت خاتم الانبیاء اور خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کے وقت شام کے یہود اور عیسائی اسلام کی رعایا تھے اور اپنے مذہبی فرائض کی بجا آوری میں بالکل آزاد تھے۔عالمگیر کے عہد میں بڑے بڑے عہدوں پر ممتاز ہندوستان کے پرانے باشندے اپنی بت پرستی لے اس میں زبردستی نہیں اور حق و باطل واضح ہو گیا۔