تصدیق براھین احمدیہ — Page 41
تصدیق براہین احمدیہ قرآن کریم میں غلمان کا لفظ صرف ایک جگہ ستائیسویں سپارہ سورہ طور میں ہے۔اگر قرآن کریم کا اردو تر جمہ بھی آپ دیکھ لیتے اور تھوڑا سا ما قبل سے پڑھ لیتے تو بشرط انصاف آپ ایسے خلاف تہذیب امر کے مرتکب نہ ہوتے۔سنیئے وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيْمَانِ الْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا اَلَتُنْهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيْءٍ كُلُّ امْرِى بِمَا كَسَبَ رَهِينُ وَامْدَدْنُهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَأْ سَالًا لَغُوَّ فِيْهَا وَلَا تَأْثِيمُ وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَهُمْ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤُ مَّكْنُونُ (الطور: ۲۲ تا ۲۵) باری تعالیٰ فرماتا ہے۔” بہشتیوں کی اولا دان کے پاس پھرے گی“۔وہاں مومن اولاد کی جدائی کا غم نہ دیکھیں گے اور ان کے لئے نہ ترسیں گے۔جب لفظ ولا تـــائیـم صریح اس کی صفت میں موجود ہے۔جس کے معنی ہیں نہ گناہ میں ڈالنا۔پھر آپ کو ایسانا شایاں خیال کیوں گزرا؟ اس معنی کی تفسیر خود قرآن کریم نے سورہ دہر میں اور لفظوں کے ساتھ کی ہے اور وہاں غِلْمَان کے بدلے وِلْدَان کا لفظ جو ولد یا وَلِید کی جمع ہے فرمایا ہے۔وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ ۚ إِذَارَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنثُورًا (الدهر : ٢٠) اور سورہ واقعہ میں ہے۔يطوف عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ بِالْوَابِ وَآبَارِيْقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَّعِيْنِ (الواقعة: ۱۹،۱۸) ے اور جولوگ ایمان لائے اور ان کی اولا د نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ان کی اولا د کو بھی ہم ان سے لاحق کر دیں گے اور ان کے عمل سے کچھ بھی کمی نہ کریں گے ہر شخص اپنی اپنی کمائی کا گرویدہ ہوگا اور ہم ان کو من بھاتے گوشت اور میوے عنایت کریں گے۔ان میں ایسے پیالوں کو دور دیں گے جن میں ( بخلاف دنیوی مے ) بہکنا اور بد خیالات کا اثر نہ ہوگا۔اور ان کے در مکنون کے ایسے لڑکے بالے ان کے ارد گر دا چھلتے کودتے ہوں گے۔ے اور پھرتے ہیں ان کے پاس بچے سدا رہنے والے جب تو انہیں دیکھے خیال کرے انہیں موتی بکھرے۔اور پھرتے ہیں ان کے پاس بچے سدار ہنے والے۔آبخورے نتیاں۔اور پیالے ستھرے پانی کے لے کر۔