تصدیق براھین احمدیہ — Page 285
تصدیق براہین احمدیہ ۲۸۵ نواں جواب دیا نندی آریہ کا اعتقاد ہے کل ارواح محدود اور غیر مخلوق ہیں۔ہمیشہ اوا گون یعنی جنم اور مرن میں مبتلا رہے اور ہمیشہ رہیں گے۔اگر کچھ زمانہ آزاد بھی رہے تو بھی ان میں بیج ان کر ماتر یعنی تخم کی طرح برائی موجود رہتی ہے۔جس کے باعث آخر پھر ارواح کو جنم لینا پڑتا ہے۔اور جو لوگ ارواح کو مخلوق مان کر تناسخ کو مانتے ہیں ان کو بھی ماننا پڑتا ہے کہ ارواح غیر مخلوق اور قدیم ہیں کیونکہ ہر ایک جنم کے اعمال افعال اور اقوال جب پہلے جنم کے پھل اور ثمرات ٹھہرے تو بصورت مخلوق ہونے ارواح کے پہلے جنم کے اعمال افعال اور اقوال اور ارواح کا باہمی تفرقہ کس جنم کا ثمرہ ہوگا اس لئے بر تقدیر تسلیم مسئلہ تناسخ یعنی اواگون کے ارواح کو غیر مخلوق اور ہمیشہ سے جنم اور مرن میں رہنا پڑا۔جب روح انادی غیر مخلوق ٹھہری اور روح کا وجود اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا نہ ٹھہرا اور روح ازلی اور ابدی ہوئی۔تو چاہیے کہ روح اپنی بقا میں اللہ تعالیٰ کی محتاج نہ ہو۔لاکن ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے ہمارا بدن کھانے پینے پہننے وغیرہ وغیرہ کا محتاج ہے۔روح بھی بدن سے کم محتاج نہیں۔اور احتیاجوں سے قطع نظر کر کے اس امر کا خیال کرو کہ روح علوم کے حاصل کرنے میں کتنی محتاج ہے۔اسی دلیل کی طرف قرآن کریم نے ایما فرمایا ہے۔يَاأَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءِ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (فاطر:۱۲) وَاللهُ (١٦ الْغَنِيُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَآءُ (محمد: ۳۹) اور فرمایا۔الله خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ (الرعد: ۱۷) دسواں جواب۔اگر ارواح الہی مخلوق نہیں تو ہم پوچھتے ہیں بدی اور بدکاری ارواح کا ذاتی اور فطری تقاضا ہے یا عرضی؟ اگر بدی اور بدکاری ارواح کا ذاتی تقاضا اور جبلّی منشا ہے تو ظاہر ہے کہ ذاتی تقاضوں اور جبی منشاؤں کے پورا ہونے کا نام راحت اور آرام ہے نہ رنج اور تکلیف اور اگر بدی اور بدکاری کوئی عارضی امر ہے جو ارواح کو لاحق ہوا۔تو چاہے کبھی وہ عرض دور لے اے لوگو تم سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ ہی غنی حمد کیا گیا ہے۔ہے اور اللہ ہی فنی ہے اور تم محتاج ہو۔