تصدیق براھین احمدیہ — Page 284
تصدیق براہین احمدیہ ۲۸۴ اور کیوں لغو ٹھہرا سکے خالق فطرت اور نیچر کا پیدا کرنے والا خود فرماتا ہے۔خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (البقرة: ٣٠) تناسخ ماننے میں علم طب کا بے فائدہ ہونا اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ جب ہم نے مانا کہ تمام بیماریاں جو انسان اور حیوانات کو لاحق ہوتی ہیں۔وہ سب بیماروں کے سابقہ اعمال کا نتیجہ اور ثمرہ ہے اور بد اعمال کی سزا ہے۔تو طبیب اور نیچرل فلاسفی کے جاننے والے نیچرل اسباب کو کیوں ڈھونڈ نے لگے اور جب حسب الاعتقاد تناسخ کے مانا گیا کہ سزاؤں کا بھگتنا ضروری ہے۔اور کسی طرح بھی ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عدالت سے وہ سزائل جاوے تو علاج سے کیا فائدہ اور اس کے باعث کیونکر فضل اور کرم الہی ہم کو الہی عدالت سے چھوڑ سکتا ہے۔اور اور اسباب الامراض اور معالجتہ الامراض سے کیا نفع ہوگا۔آٹھواں جواب۔روح کے گن یعنی خواص روح کے کرم یعنی افعال روح کی سبھاؤ یعنی عادات دیا نندی آریوں کے نزدیک ارواح کو لازم اور ارواح میں انادی ہیں اور آریہ کے نزدیک یہ صفات ارواح میں باری تعالیٰ کی دی ہوئی نہیں۔اب تناسخ کے وہم کا منکر اگر یوں کہے کہ بعض ارواح کا سبھاؤ اور اس کے گن ہی ایسے ہیں کہ ناقص ذرات کا جسم لیا کریں اور دکھ دائک جس میں زندگی بسر کریں۔آسودگی میں رہنے والوں کے گھر جنم نہ لیں۔اور یہ امران کے لئے پور بلی جنم یعنی پہلی زندگی کے اعمال کی جزا یا سزا نہ ہو۔بلکہ ایسی روح کی شقاوت از لیہ اور اس کا سبھاؤ ہی اس تکلیف کا موجب ہو۔بعض ارواح اصل سے ایسا سجاؤ رکھتے ہوں کہ عورتوں کا بدن لیں۔بعضے ارواح مردوں کا جسم اپنے لئے اپنے سبھاؤ سے پسند کرلیں سابقہ اعمال کو اس میں کچھ دخل نہ ہو۔اور نہ پہلے جنم کی یہ جزا اور سزا ہو سچ ہے۔نْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدُ (هود: ١٠٦) ے سب جو زمین میں ہے تمہارے لئے پیدا کیا۔ے ان میں سے کوئی سعید ہے اور کوئی شفقی ہے۔