تصدیق براھین احمدیہ — Page 286
تصدیق براہین احمدیہ ۲۸۶ ہو جاوے۔جب عرض دور ہو گئی تو روح پاک اور پوتر ہو کر آئندہ ہمیشہ نیک اعمال کی طرف متوجہ رہے بلکہ یقین ہے کہ وہ ایسا ہی کرے کیونکہ روح کو آریہ نے چین اور سمجھ دار مانا ہے۔آریہ صاحبان۔اگر اتنے تجربہ پر روح نے اب تک نہیں سمجھا تو وہ چین نہیں۔یا کسی راز دار الہامی کو الہاما پتہ لگ جاوے کہ الہی ارادہ بعض کے حق میں اس عرض کے دوام لحوق کا ہو چکا ہے۔گیارہواں جواب۔لڑکوں کی پرورش کی جاتی ہے اور ان کو تعلیم کے واسطے تکلیف اور سرزنش دی جاتی ہے۔اس تکلیف کو سزا یا جز انہیں کہا جاتا بلکہ اس کا نام تربیت رکھتے ہیں۔پس ایسی ہی وہ تکالیف جو دنیا میں عارض ہوتی ہیں ان کی نسبت کیوں نہیں کہا جاتا کہ وہ تربیت الہی میں داخل ہیں۔نہ سزا اور جزا میں ہمارے لئے نہ سہی مجموعہ عالم کے واسطے سہی اس جواب کو بارہواں جواب اور زیادہ واضح کرتا ہے۔بارہواں جواب۔حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کے ہاتھ پر جب ایک جنم کا اندھا اچھا ہوا تو حضور علیہ السلام کے حواریوں نے عرض کیا۔یہ لڑکا کیوں نا بینا تھا۔کیا اپنے گناہ کے باعث یا اپنے ماں باپ کے گناہ کے باعث۔حضرت مسیح علیہ السلام نے جواب دیا نہ اپنے گناہ کے باعث اور نہ اپنے ماں باپ کے گناہ کے باعث بلکہ یہ لڑکا اس لئے نابینا تھا کہ الہی جلال ظاہر ہو۔کیا معنی اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول اور بنی اسرائیل کے گھرانے کے خاتم الانبیاء نبی حضرت مسیح علیہ السلام کی بزرگی اور صداقت ظاہر ہو میرا اس قصہ کے بیان سے صرف یہ مطلب ہے کہ دکھ اور سکھ کے واسطے اعمال کی جزا اور سزا کے ماسوا اور بھی بہت اسباب ہیں۔اواگون ماننے والوں کے پاس کیا دلیل ہے کہ پور بلی جنم کے اعمال ہی اس کا باعث ہیں۔تیرہواں جواب۔قانون قدرت اور اللہ تعالیٰ کے بے انت کارخانہ میں ہزاروں ہزار اسباب ہیں مثلاً غور کرو۔ان اسباب پر جو علم طب میں بیان ہوتے ہیں اور ان علامات و معالجات پر جن کے ذریعہ ہم اسباب کا پتہ لگاتے ہیں اور ان کے دفعیہ کی صائب تدبیر کر سکتے ہیں بیماریوں کے اسباب جاننے سے ہم افلاس اور غریبی دولتمندی اور حکومت کے اسباب کا اجمالی علم حاصل کر سکتے ہیں۔