تصدیق براھین احمدیہ — Page 267
تصدیق براہین احمدیہ وو ۲۶۷ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْاَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (ال عمران: ۱۳۴) بقیه اعتراضات تکذیب صفحہ نمبر ۸۲ کا جواب دوم۔” پہاڑ زمین پر میخوں کی طرح ٹھو کے گئے“۔ضرور پڑھو۔مصدق۔یہ مشاہدہ ہے اور ہم نے اس پر ایک مضمون لکھ دیا ہے جو عنقریب آتا ہے اسے سوم۔سورج کا چشمہ گلی میں ڈوبنا‘۔مصدق۔قرآن میں نہیں لکھا۔چہارم۔چاہ بابل میں ہاروت ماروت کا قید ہونا۔مصدق۔قرآن میں نہیں لکھا۔بلکہ چاہ بابل کا کوئی تذکرہ بھی قرآن میں نہیں۔ہاروت ماروت کے قید ہونے کا بیان بھی نہیں۔پنجم۔چشمہ ہائے دودھ و شہد و شراب کا نمونہ۔مصدق۔ہم دنیا میں بھی دیکھتے ہیں تو آپ نے اس کا ابطال کیسے تجویز کر لیا۔دیکھو مادہ گائے بھینس کا شیردان یکھی کا چھتہ۔انگور کی چھتریاں۔ششم ”سلیمان کے وقت جانوروں کا بولنا۔“ مصدق۔یہ امر بھی قرآن کریم میں نہیں آیا جانور تو اب بھی بولتے ہیں۔اس وقت کی کیا خصوصیت ہے قرآن میں صرف اتنی بات آئی ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام منطق الطیر کو جانتے تھے علم منطق الطیر کو عبری میں وَبُرَهَا عَرَفْ کہتے ہیں وبُر کے معنی بات، عرف کے معنی پرندہ اور یونانی زبان میں اس علم کا نام ارنـى شـولـوجـيـا ہے۔ارنیس اور ارنی تھوس کہتے ہیں اڑنے والے کو۔اور لو جیا کے معنی لغت اور علم کے ہیں۔کتاب تاریخ میں جو