تصدیق براھین احمدیہ — Page 265
تصدیق براہین احمدیہ کامل طور پر ثابت کیا اور کس طرح اللہ تعالیٰ کو عیوب سے مبرا بتایا۔سور اور کچھ اور کچھ بننے سے پاک یقین کر لیا۔یہودیوں کے ہاتھ سے پیٹنے سے پاک بتایا البطل اباطیل شرک کی جڑھ کائی۔رہی یہ بات کہ سات آسمان باطل ہیں وغیرہ وغیرہ سواس کا جواب نمبر وار دیتے ہیں۔اول سات آسمانوں اور سات زمینوں کی ہر کسی عالم بلکہ اہل عالم ماہر تواریخ و ہیئت وجغرافیہ نے نمبر وار تردید کی ہے۔مرد آدمی ان کا نام ہی لکھ دیا ہوتا۔سنیئے آپ کو ہم بتا دیں۔آپ نے تو منکر اہل علم کا نام نہیں لیا۔ہم ماننے والوں کے نام سناتے ہیں۔لوگ پانجل کرت سوتر نمبر ۲۵ دیاس منی کی بہاس اور اد ہیا سوم سورج دہا رنا کی نرنی میں لکھا ہے۔بھوکی اوپر بُھورُ سُورُ مَهَرُجَنُ تپ انتر کھ ست۔یہ سات آسمانی طبقات ہیں۔جو زمین کے اوپر ہیں اور مہیاتل، رسائل، اتل، ستل ، وتل، تلاتل، پاتال۔یہ سات طبقات زمین کے نیچے ہیں۔اب بتائیے یہ آریہ ورتی اہل علم و ہیئت دان اور جا گرفی کے ماہر تھے یا نہ تھے مگر یہ تو بتاؤ جنبو دیپ کے گردلون سمندر اور شاک دیپ کے گرد، اکھیورس (شہد)، سمندر، کشن دیپ کے گردسورا (شراب) سمندر، کرونج دیپ کے گردسرپی ( گھی ) سمندر۔شال مل دیپ کے گرد دوہی سمندر، گیومید دیپ کے گرد کھیر سمندر، پشکر دیپ کے گرد، جل سمندر، ان دیپوں کا بیان اور تشریح کس جا گرفی دان سے پوچھیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ زمین اور آسمان کا سات سات حصص پر منقسم ہونا کچی تقسیم ہے جو سراسر حق ہے اس کے ماننے میں بطلان ہی کیا ہے کہ قرآن کریم نے اس کا ابطال نہیں کیا۔قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں سَبْعَ اَرضِینَ کا تذکرہ موجود ہے۔مگر یا در ہے موجودات مرکبہ کی تقسیم کئی طرح ہو سکتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے یہ تقسیم فرما دی تو بطلان کیا ہوا۔اب ہم ایک ایسی بات کہتے ہیں جس کے سننے سے کسی منصف آریہ کو قرآن کریم کے سبع سموات کہنے میں انکار کی جگہ نہیں۔زمین سے لے کر جہاں تک فوق میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔اس مخلوق کو اللہ نے ایک تقسیم میں سات حصوں پر تقسیم کیا ہے۔ہر ایک آسمان جس کا بیان