تصدیق براھین احمدیہ — Page 264
تصدیق براہین احمدیہ ۲۶۴ فریق ثانی کے ذمہ یہ الزام ضرور ہے جس سے اس (وید ) کی راستی الہامیت سراپا کا فور ہے۔والا آریہ ثابت کریں کہ آبادیوں نے بھی دید سے تعلیم پائی۔اب خاکسار چند وہ دلائل بیان کرتا ہے جن سے یقین پیدا ہوا ہے کہ ہندیوں نے پارسیوں سے سیکھا۔اول۔قدامت پارسی بحساب بالا آریہ کے پہلے ہیں۔دوم بیاس جی کا پارسی فرسنداج کیش زرتشت کے پاس جانا اور اس کا مذہب قبول کرنا۔اور یہ امر کچھ مخفی بھی نہیں ہوا بلکہ بڑی ہی مجلس میں واقع ہوا۔دیکھونامہ زرتشت آیت نمبر ۶۵ و ۶۶ و آیت نمبر ۱۶۲، سفر نگ صفحه نمبر ۱۲۰ دو نمبر ۱۳۵۔سیوم۔دونوں ادیان کی ان تعلیمات کا باہم موافق ہونا جن پر سچے دین اسلام سے آریہ کو اختلاف ہے۔مثلاً مسئلہ تناسخ۔دیکھو دساتیر فرز آبا د وخشوران و خشور آیت نمبر ۶۷ ۶۸۔گوشت نہ کھانا اور اس کے ترک کو ضروری یقین کرنا دیکھو آیت نمبر ۱۳۶و۱۳۷۔سورج اور چاند اور کواکب اور عناصر کی پرستش دیکھو نا مہ شت شائے کلیو آیت نمبر ۴۶ و ۴۷ و ۴۸ و نامه خشور یا سان آیت نمبر ۴ ۵۵٫۵- بلکہ غور کیجئے تو اکثر حصہ کیا ان کی کل تعلیمات کا خزانہ وہی پارسی ہیں وبس ( ذرا غور کرو) تکذیب۔صفحہ نمبر ۸۲ احقاق حق و ابطال باطل سے قاصر رہنا۔احقاق حق میں جس قدر قرآن کم زبان ہے اسی قدر ابطال باطل میں وہ قاصر البیان ہے۔سات آسمانوں اور سات زمینوں کا ہونا زمین کے اوپر پہاڑوں کو بمنزلہ میخوں کے ٹھوکنا تا کہ زمین جنبش نہ کرے۔سورج کا چشمہ گلی میں ڈوبنا چاہ بابل میں ہاروت و ماروت کا قید ہونا چشمہ ہائے دودھ وشہر وشراب کا بہنا، سلیمان کے وقت جانوروں کا بولنا وغیرہ حق کے ظاہر کرنے سے قطعی پر ہیز ہو رہا ہے۔ورنہ اہل عالم و ماہران تو اریخ و ہیئت و جغرافیہ ان کی تردید نمبر وار کر رہے ہیں۔مصدق۔احقاق حق کا قصہ سن چکے ہو۔تمام حقوق کا سرتاج اور بڑا حق عقل کانشنس اور الہامی مذاہب میں اللہ تعالیٰ کا ماننا ہے۔اس کو غور کرو کس کامل طور پر قرآن نے بیان کیا اور کس