تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 260 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 260

تصدیق براہین احمدیہ ۲۶۰ سے فسٹ نمبر کے حواری عیسائی کلیسیا کے فون ڈیشن سٹون سیدنا مسیح علیہ السلام کو ملعون کہہ بیٹھے۔اور جو کچھ یہودا اسکر یوطی نے سلوک کیا وہ دنیا سے مخفی نہیں اور جو کچھ روحانیت آپ کی پاک تعلیم سے آپ کی قوم کو حاصل ہے معلوم۔سوچو! حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کا وہ قول کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے نکلنا اس سے آسان ہے کہ دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو ( متی ۱۹ باب ۲۴) اور یورپ و امریکہ کی دنیا داری۔سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے مخاطب ایسے تھے کہ جب ان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر کے آہنی تنور ( یرمیاہ۔اباب۴ ) سے نکال لائے اور حکم کیا کہ کنعان کو چلو تو انکار کر بیٹھے قرآن کریم اس قصہ کو عبرت کے لئے نقل فرماتا ہے۔و إذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمُ مُلوكًا وَأَنكُمْ قَالَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِنَ الْعَلَمِينَ يُقَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَسِرِينَ قَالُوا يَمُوسَى إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ وَإِنَّا لَنْ تَدْخُلَهَا حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهَا ۚ فَإِنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَخِلُونَ قَالَ رَجُيْنِ مِنَ الَّذِيْنَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ ۚ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غُلِبُونَ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ قَالُوْا مُوسَى إِنَّا لَنْ تَدْخُلَهَا اَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ (المائدة: ۲۱ تا ۲۵) آخر بدوں یوشع بن نون اور کالب بن یفنہ کے کوئی بھی فرمانبردار نہ نکلا دیکھو گنتی ۱۴ باب ۳۰ ے جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو کہا۔اے میری قوم اللہ تعالیٰ کے انعام کو یاد کرو جو تم پر کیا کہ تمہاری قوم میں انبیا بنائے اور تم کو بادشاہ بنایا اور تم کو اپنے اپنے فضل سے وہ کچھ دیا کہ کسی کو نہ دیا اے میری قوم کنعان کی پاک زمین ( ہوئی لینڈ ) جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ابراہیمی بشارتوں میں لکھ دیا ہے۔اس میں داخل ہو جاؤ۔اور کبھی پیچھے نہ پھر یو۔اگر پیچھے ہٹے اور میری نافرمانی کی تو ٹوٹا پاتے پیچھے پھرو گے۔تب انہوں نے (موسیٰ کی قوم نے ) جواب میں کہا موسیٰ اس زمین کے لوگ بڑے طاقتور ہیں اور جب تک وہ نہ نکلیں ہم تو کبھی اس ملک میں نہ جاویں۔ہاں اگر وہ لوگ نکل کر کہیں چلے جاویں تو خیر ہم اسی ملک میں چلے جائیں گے۔کہا ان دو آدمیوں نے جو اللہ کی نافرمانی سے ڈرنے والے تھے اور ان پر ہمت و حوصلہ کا انعام تھا۔ہمت مت ہارو۔چوری بھی نہیں بلکہ دروازوں کے راستہ چلے جاؤ جب حسب الحکم الہی داخل ہو گئے تو جیسے الہی وعدہ ہے فتحمید رہو گے۔اگر ایمان رکھتے ہو اللہ پر بھروسا کرو۔پھر بھی یہی جواب دیا اے موسیٰ جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں ہم اس ملک میں کبھی نہیں جائیں گے۔ہاں تو اور تیرا رب تم دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔