تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 259 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 259

تصدیق براہین احمدیہ ۲۵۹ میں ہی پہنچادوں۔بتاؤ کس کے پیچھے چلیں۔اس پر اگنی ہوتری ساکت ہوئے۔فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَاللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ (البقرة: ۲۵۹) غرض جب ان اسباب سے جن کا ذکر اوپر ہوا۔تمیز ٹھیک نہیں رہتی تو انسان کو یقینی آرام دہ مقئن و ممیز کے ملنے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔تب ہمہ قدرت ہمہ فضل، ہمہ طاقت اللہ تعالیٰ جس کے گھر میں بخل نہیں اس کی طرف سے الہام ہوتا ہے۔پھر جو کچھ ایک ملک میں الہام سے سکھایا ممکن ہے کہ دوسرے ملک میں اس الہامی تعلیم کا اثر نہ پھیلے۔اس لئے دوسری قوموں میں اللہ تعالیٰ مہم بھیجتا ہے۔جیسے فرماتا ہے اور فرمایا وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ (فاطر: ۲۵) وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا (بنی اسرائیل:۱۲) دنیا میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کو ملہم رسول بھیجے اور ان کو صداقتیں بتا ئیں۔اور ان ملہموں کو ان صداقتوں کے پھیلانے کی لولگا دی۔مگر ان تعلیمات کے پھیلانے میں انبیاء ورسل کو کوئی حد بندی نہیں کر دی گئی کہ فلاں مدت تک فلاں ملک تک اس ہدایت کو پھیلاؤ پھیلانے کا ثواب ملے گا۔انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی مقدس روح بھی سنتر آزاد بنائی گئی تھی۔وہ مجبور نہیں تھی۔جب ایک مہم کے ہدایات و تعلیمات کے پھیلاؤ میں ظاہری یا باطنی یا دونوں صورت میں کچھ ذرہ کمزوری ہوئی۔اور اس کا پورا اثر اس کی تلامیذ یا قوم یا ملک تک بھی ایسا نہ ہو جس کے بعد قوم کا عذر نہ رہے۔تو اور پاک شخص اس عہدہ پر ممتاز کیا گیا۔غور کر و حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کی تاثیر کیسی کمزور ثابت ہوئی جناب کے حواریوں لے تب منکر اسلام لگا بغلیں جھانکنے اوراللہ ظالم بد کار کومنزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔سے نافرمانوں کو نا فرمانی پر ڈرانے والے ہر قوم میں گزر چکے۔سے جب تک ہم اپنی طرف سے رسول نہ بھیج دیں جب تک کسی قوم کو عذاب نہیں دیتے۔