تصدیق براھین احمدیہ — Page 258
تصدیق براہین احمدیہ ۲۵۸ کے جو جمادات، نباتات، حیوانات میں موجود ہیں نیک و بد علوم واخلاق کا مادہ بھی رکھ دیا۔علمی حصہ میں انسان ان سوشل ، مارل، پولیٹکل قواعد وضوابط کا محتاج تھا۔جن کے باعث اکل ، شرب ، لباس ، آسائش، آرام، جماع اور تمدن و امن میں ابتداء انجام ، نشیب وفراز پھر شائستگی آخر، افاده و استفادہ ہی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہی علوم لینے کا حقدار ہو جاتا ہے اور عملی حصہ میں انسان اراده استطاعت کو لے کر کبھی باری تعالیٰ سے انس و محبت پیدا کر کے استقلال، استقامت، فراخ حوصلگی، نفع رسانی، عاقبت اندیشی سے ایسا پاکیزہ باطن بنتا ہے کہ ظاہری نجاست کے ساتھ بھی بارگاہ الہی میں مناجات نہیں کرتا۔مگر کبھی انسان شتر بے مہار ہر ایک ضرورت میں ناعاقبت اندیش،رہبان، فرعون، مضطرب ، تنگ دل ، بخیل، ایسا گندہ کہ پاکیزگی کا نام بھی نہ جانے ، ہو جاتا ہے۔فطرت کے موافق سچی آرام دہ اشیا کا نام نیکی اور مخالف اشیاء کا نام بدی ہے۔مگر رسم رواج آب و ہوا، ناقص تعلیم ، افلاس، دولتمندی۔حکومت کی بُری تاثیر انسان کو ایسے پھندے میں پھنساتی ہے کہ مخالف اشیا کو موافق اور موافق کو مخالف سمجھ کر عقل و تمیز کوکھو بیٹھتا ہے۔فطری ممیزہ قوت اور نور ایمان اور کانشنس جسے نفس تو امہ کہیئے وہ ایک بیج کی طرح ایسے کمزور ہو جاتی ہے کہ اس میں ایجاد کیا تمیز ہی نہیں رہتی۔سنو! میرے ایک پیارے نوجوان نے (اللہ تعالیٰ اسے علم و عمل میں ترقی دے ) اگنی ہوتری کو اس کا یہ لفظ سن کر کہ ” ہے پر بھو میں تیری راحت بخش بارگاہ کے پاس لوگوں کو لایا چاہتا ہوں مگر وہ نہیں آتے۔سچی دعا کے بعد کہا۔کیا آپ یقینی طور پر ہمیں اس بارگاہ تک پہنچا دو گے جس کا دعویٰ کرتے ہو؟ تب اگنی ہوتری نے کہا۔یقیناً میں نہیں کہہ سکتا کہ تم میری تعلیمات کے ذریعہ ضرور وہاں تک پہنچ جاؤ گے کیوں کہ ممکن ہے کبھی میرے اقوال کی غلطی ثابت ہو جاوے۔تب میرے پیارے نوجوان عزیز نے (اَعْطَاهُ اللهُ عِلْمًا وَ عَمَلًا آمین ) کہا ہم نجات کے طالب ہمارا کانشنس ضعیف ہے۔غلطی سے محفوظ نہیں۔ایک طرف محمد صاحب ہمیں بلاتا ہے۔ادھر آؤ۔میں یقینا تمہیں نجات تک پہنچا دوں گا“۔دوسری طرف آپ کہتے ہیں ادھر آؤ شاید