تصدیق براھین احمدیہ — Page 246
تصدیق براہین احمدیہ ۲۴۶ یہود نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے مدینہ طیبہ میں ایک داؤ کھیلا اور حضور علیہ السلام سے لوگوں کو ہٹایا اور کہا وَلَا تُؤْمِنُوا إِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمْ (ال عمران: ۷۴) اس کے جواب میں قرآن فرماتا ہے۔قُلْ إِنَّ الهُدَى هُدَى اللهِ أَنْ يُولّ اَحَدٌ مِثْلَ مَا أُوتِيْتُمْ أَوْ يُحَا جُوَكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (ال عمران: ۷۴) غرض اللہ تعالیٰ کا وہ فضل، ارادہ علم اور قدرت جس سے وہ مخلوق کو پیدا کرتا اور عزت کے لائقوں کو عزت دیتا ہے۔اس کی تکمیل اور اس کا پورا ہونا ایک لا بدی امر ہے۔کیونکہ اس کا کوئی مانع نہیں۔جب سیدنا نبی عرب کو اس نے اپنے خاص فضل اور رحمت سے نبی رسول، رسولوں کا سردار رسولوں کا خاتم بنایا اور اسے قرآن جیسی پاک کتاب دینی چاہی تو اس قادر مطلق کے فضل وارادہ کا کون مانع ہے یہ دنیا اور دنیا کے لوگ اس کا ملک اور ملک ہے۔اور اللہ تعالیٰ اپنے ملک کی رعایا پر مختلف جسمانی حکام بنایا کرتا ہے تو کہ ان کا انتظام دنیا میں کسی قدرا من کو قائم رکھے۔روحانی انتظام جسمانی انتظام سے زیادہ ضروری اور توجہ کے قابل ہے۔اگر دنیا کے انتظام کے واسطے اللہ تعالیٰ نے مختلف ناظم بھیج دیئے تو دنیوی انتظام سے زیادہ دینی روحانی انتظام کے واسطے کئی ناظموں کا آنا ضروری نہیں؟ دوسری ضرورت جزیرہ نما عرب کے لوگ الہیہ مواعظ سے مدت تک محروم رہے۔توریت اور انجیل نے عرب کے جیتنے میں کوئی کامیابی نہ دکھائی۔بھلا بید جس کی تعلیم سے ہم آریہ ورتی لوگ باوجود کوشش کے بھی واقف نہیں ہو سکے کیونکر فائدہ اٹھاتے۔تجربہ نے ثابت کر دیا ہے کہ تمام بلاد کے لوگ بیرونی یا اندرونی یا دونوں قسم کے معلموں کی تعلیمات کو قبول کرتے اور مان سکتے ہیں اور جیسی جسمانی لیے تو کہہ دے وہ خاص ہدایت جسے الہی کہتے ہیں وہ تو یہی ہے کہ دیا جاوے کوئی مثل اس کی کہ دیئے گئے تم (استثناء ۸ ا باب ۱۸) بلکہ تم پر حجت میں غالب آوے تمہارے پالنے والے رب کے سامنے تو کہہ دے یہ نبوت اور رسالت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اسی کے ہاتھ ہے، جسے چاہے دے، اور اللہ وسیع وعلم والا خاص عزت و رحمت جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ تعالی بڑے فضل والا ہے۔