تصدیق براھین احمدیہ — Page 247
تصدیق براہین احمدیہ ۲۴۷ فتوحات میں بیرونی لوگوں کے محکوم بن جاتے ہیں۔ویسے ہی روحانی فتوحات میں بیرونی فاتحوں کے ماتحت ہو سکتے ہیں۔یورپ افریقہ امریکہ پر جو اثر شامی مذہب کا پڑا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ اصل اور پاک عیسائیت در کنار اور سیدنا مسیح علیہ السلام کا رسول ماننا کیا۔یہ لوگ ابن اللہ بلکہ خود خدا ماننے کو تیار ہیں۔ہند، سندھ، افغانستان، چین کے حالات ظاہر ہیں کہ چین والے تو نہایت کمزور قوم آریہ ورتوں سے ایک غیر الہامی شخص گوتم کی تعلیم ماننے کے لئے بھی تیار ہیں اور بلاد کی حالت پر اگر نگاہ کو دوڑاؤ اور افریقہ کی اندرونی اس پھیلاؤ پر نظر کرو جس میں اسلام سرتوڑ اور کچھ عیسائی مذہب ترقی کر رہا ہے تو میری اس عرض کی صداقت پر ناظرین کو کلام نہ ہوگا۔تجربہ اور مشاہدہ نے صاف طور پر ظاہر کر دیا ہے کہ صرف عرب کے بلکہ قریش اور ان میں بھی حجازی اور اہل مکہ ہی بخصوصیت اس دنیا میں ایسے لوگ ہیں جن پر عام طور سے غیر قوموں کی ظاہری یا باطنی تا شیر نے اثر نہیں کیا۔(دیکھو یرمیاہ کی کتاب اباب۱۰) دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس کے مرکز پر بیرونی حملوں کی زدکا اثر نہیں پہنچا ہم نے ایشیا، یورپ، افریقہ، امریکہ، نیو ہولینڈ، نیوزی لینڈ وغیرہ اور ان کے پیروشلم اور پیر امون کے معبد پارسیوں کے ایرانی آتشکده ، بابل ، کانشی جی ، لاسہ، انطاکیہ وغیرہ کو دیکھ لیا۔کسی میں مکہ یا مکہ والوں کی آن نہ دیکھی۔جب دنیا پر اور دنیا کے ہادیوں پر اور ہادیوں کے جان شار مشنریوں پر حجت کے طور پر ثابت ہو گیا کہ کوئی بھی عرب کے مرکز تک راستبازی کو کامل طور پر نہ پہنچا سکا جب پہلے اُپدیشکوں اور مشنریوں نے اس قوم عرب کی نسبت یہ کمزوری دکھائی اور ان پر اتمام حجت نہ کر سکے تو اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم نے جوش مارا اور اس قوم کو محروم نہ رکھا بلکہ وہاں ایسا ہادی پیدا کر دیا اور اسے قرآن جیسی کتاب دی۔جس کی قومی تاثیر نے وہ تمام صداقتیں اور راستبازیاں جو دنیا بھر کے ملہموں کے پاس اور پاک کتابوں میں مندرج تھیں مرکز عرب کو بھی پہنچا دیں اور اس طرح جو الزام دنیا کے راستباز مشنریوں پر تھا کہ انہوں نے اپنا پورا کام نہ کیا یعنی مرکز عرب کو نہ جیتا اس کو اٹھا دیا۔اور ان راستبازوں اور راستبازیوں کے بدلہ میں حضرت نبی عرب اور