تصدیق براھین احمدیہ — Page 224
تصدیق براہین احمد به ۲۲۴ نہم۔سیاست مدن کے اصول أطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا فرمانبرداری کرو اللہ کی چاہے اس کا حکم اس کے کلام سے پہنچے چاہے الرَّسُولَ وَ اُولی اسکے فعل سے ( قانون قدرت) سے اور فرمانبردار بنو اللہ کے رسول الْأَمْرِ مِنْكُمُ کے کہ وہ اسی اللہ تعالیٰ کے احکام تمہیں پہنچاتا ہے۔اور فرمانبردار رہو (النساء: ۶۰) حکومت والوں کے دنیوی احکام ہوں یا سچے دین کے علماء ہوں۔وہم۔جمہوری سلطنت کی بنا ڈالی اور مسلمانوں کی صفات میں کہا وَشَاوِرْهُمْ فِي الْآخرِ ( جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو بطریق اولویت بلکہ ہر ایک (ال عمران: ۱۲۰) مخاطب کو حکم ہوتا ہے ) کہ حکومت میں اپنے لوگوں سے مشورہ کر لیا کر۔وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَ أَبْقَى لِلَّذِينَ آمَنُوا وَ عَلَى رَبِّھے وہ نعمتیں جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں بہت ہی اچھی اور ہمیشہ رہنے والی يَتَوَكَّلُونَ وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبير الإِثْمِ ہیں اور انہیں کو ملیں گی کہ جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر ان کا وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ بھروسہ ہے۔اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں سے اور بے حیائیوں وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَ سے بچے رہتے ہیں اور اگر کسی پر غضب کریں تو عفو کرتے ہیں اور ان أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کی حکومت با ہمی مشورہ سے ہوتی اور کچھ ہما راد یا خرچ کرتے ہیں۔(الشوری: ۳۷ تا ۳۹)