تصدیق براھین احمدیہ — Page 184
۱۸۴ تصدیق براہین احمدیہ بَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (ال عمران: ۶۵) ہاں اسلام کو۔دیانندی آریہ کا سا اعتقاد نہیں کہ جیو اور مادہ عالم اس کے ساتھ تھے بلکہ زمانہ بھی اس کے ساتھ تھا۔تب اللہ تعالیٰ سرشتی کور بچ سکا!!! مسلمانوں کا اعتقاد یہ ہے اللہ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ (الرعد: ۱۷) اس اعتقاد سے مٹی کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور مٹی کے مادہ کا خالق بھی وہی ہے۔مادہ اور روح کی تشریح جس قدر روحانی تربیت میں مفید ہے اس قدر قرآن کریم نے تشریح کر دی ہے اور جس تفصیل کی ضرورت روحانی تعلیم میں نہیں اس سے قرآن کریم نے سکوت فرمایا۔خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اگر روح کے معنی کلام الہی کے ہیں تو روح غیر مخلوق اور غیر مادی ہے۔یہ روح الہی صفت ہے اور مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ کے پیارے بندوں پر نازل ہوتی رہی اور نازل ہوتی ہے اور نازل ہوگی اور ان کی وساطت سے عام مخلوق الہی کے پاس پہنچی اور پہنچے گی۔اور روح کے معنی اگر ملائکہ اور انبیاء علیہم السلام کے لیں تو وہ مخلوق ہیں ایک وقت میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ مختلف اوقات اور انواع واقسام کے مختلف اشیاء سے پیدا ہوا گئے۔انسانی جسمانی روح ایک قسم کی لطیف ہوا ہے جو انسان میں شریانی عروق اور انسانی پھیپھڑوں کے بن جانے اور قابل فعل ہونے کے وقت نفخ کی جاتی ہے۔اس مطلب کو سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر غور کرو یہ صادق کتاب حقیقت نفس الامری کی خبر دیتی ہے کہ انسان اسی نطفہ سے جو عناصر کا نتیجہ ہے خلق ہوتا ہے اور پھر یہیں اسے سمیع و بصیر یعنی مدرک اور ذی العقل بنایا جاتا ہے نہ یہ کہ پیچھے سے اپنے ساتھ کچھ لاتا ہے اور پرانے اعمال کا نتیجہ اس کے ساتھ چپٹا ہوتا ہے جس وہم و فرض کا کوئی مشاہدہ کا ثبوت نہیں۔هَلْ آلى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَّذْكُورًا إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ أَمْشَاجِ نَبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (الدهر: ۳۲) ے مخلوقات مرکبہ۔رچ سکا پیدا کر سکا۔ے زمانہ میں سے ایک وقت بے شک انسان پر ایسا گزرا ہے کہ اس کا نام ونشان کچھ بھی نہ تھا ہم نے انسان کو ملے ہوئے نطفہ سے پیدا کیا۔ہم اس کا امتحان لیا چاہتے ہیں۔(اور اس امتحان کے لئے ) ہم نے اس کو سمیع و بصیر بنایا۔