تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 183 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 183

تصدیق براہین احمدیہ ۱۸۳ دوم۔روح ملائکہ اور انبیاء کو کہا ہے اور ظاہر ہے کہ ملائکہ اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مختلف اوقات میں مختلف عناصر سے پیدا ہوئے اور مختلف مصالحوں سے بنے۔ان معنی کا ثبوت قرآن کریم سے سنئیے۔وَأَتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَتِ وَأَيَّدَنُهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ (البقرة: ۸۸) إِنَّمَا الْمَيْحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحُ مِّنْهُ (النساء : ۱۷۲) سوم۔روح جسمانی جس کا نفخ انسانی جسم میں اور وہ اور شرائین کی تجویف بن جانے کے بعد ہوتا ہے جس کا اشارہ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُّوحِى (الحجر: ۳۰) میں ہے۔اگر اس کی بابت پوچھتے ہو کہ مٹی کہاں سے آئی؟ تو ہم نہایت جرات سے بلا تذبذب جواب دیتے ہیں مٹی سرب شکستیمان ( قادر مطلق) با اختیار قادر کی ایجادی طاقت کا نتیجہ اور اثر تھا۔رب النوع کا ماننا اسلامی اعتقاد نہیں۔اس تذکرہ سے کس قوم پر تعریض کرتے ہو؟ اسلامیوں میں تو یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی موجود بالذات کوئی غیر مخلوق اور فاعل مستقل نہیں۔رب النوع کے معتقد اسلامیوں میں مشرک کہلاتے ہیں اور شرک کے حق میں قرآنی فتویٰ یہ ہے۔ان الشَّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمُ (لقمان: ۱۳) إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ (النساء: (٤٩) اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو رب ماننے میں قرآن کریم کی یہ تعلیم ہے۔اور اس امر میں صاحب قرآن کریم کو یوں حکم ہوتا ہے۔قُل ياهل الكِتُبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ لے اور ہم نے عیسی ابن مریم کو کھلی دلیلیں دیں اور روح پاک سے اس کی تائید کی۔ے اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ عیسی ابن مریم اللہ کا رسول اور اس کا مخلوق ہے جو مریم کے پیٹ سے پیدا ہوا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔ے یقیناً شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔ے یقینا اللہ سے معاف نہ کرے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جاوے۔کہہ اوکتاب والو! آجاؤ ایسی بات کی طرف جو تمہارے ہمارے درمیان ٹھیک مسلم ہے اور وہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی پرستش فرمانبرداری نہ کریں اور نہ اس کا کوئی شریک ٹھہر اویں اور نہ بنارکھے کوئی بھی ہم سے کسی کو رب اللہ کے سوا کیونکہ رب ایک ہی ہے۔اور لو گو! اگر تم نہ مانو تو ہم اس بات کے ماننے والے ہیں ہی کہ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں۔