تصدیق براھین احمدیہ — Page 162
تصدیق براہین احمدیہ ۱۶۲ ہیں اس سے قرآن کریم کی عظمت کم ہو جائے گی حق وصدق خود اونچا ہوتا ہے۔یہ سراج منیر کسی دشمن کے پھونک مارنے سے بجھ نہیں سکتا۔ایک زمانہ میں عیسائیان یورپ نے قرآن کریم اور اس کے حامل و احب التکریم کو بہت برے برے پیرائیوں میں دکھانا شروع کیا کہ یہ غیر مغلوب صداقت کہیں یورپ میں پھیل نہ جائے۔جناب ہادی کامل علیہ الصلوۃ والسلام کو بدنما ڈراموں کی سٹیجوں پر عیب ناک قابل نفرت ایکٹر بنا کر دکھایا۔اس فرضی کبوتر کی قبیل کے مصنوعی افسانے تراشے ! مگر کیا وہ اس آفتاب حقیقت کو پوشیدہ کر سکے؟ آج یورپ میں بے شمار منصف غور کرنے والے پیدا ہو گئے جو اشاعت کلام ربانی کی راہیں تیار کر رہے ہیں۔اثبات صانع عالم کے ان دلائل میں سے جن کو مکذب براہین نے اپنے غلط خیال کے باعث قرآنی دلائل اثبات صانع کہا ہے قرآن کریم سے دو دلیلیں وہ بیان کی ہیں جن کو تکذیب کے صفحہ ۶۴ اور ۴ سے میں بضمن نمبر ۳ و نمبرے لکھا ہے دلیل نمبر ۳ صفحہ ۶۴ میں سورہ والنجم کے پہلے رکوع کی چند آیتیں ہیں اور دلیل نمبرے صفحہ ہے میں جو کچھ نقل کیا ہے اس میں کچھ حصہ تو ان دو آیت شریفہ کا ہے جس کو مکذب نے نمبر ۳ میں چھوڑ دیا تھا اور وہ دو آیتیں یہ ہیں۔أَفَرَءَ يُتُمُ اللَّهَ وَالْعُزَّى وَمَنُوةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى (النجم :۲۱،۲۰) اب اس آیت شریفہ نمبری ۱۹ کے آگے مکذب ایک عربی کا فقرہ لکھتا ہے اور اس مجموعہ پر جلی قلم سے سورہ نجم کا حوالہ دیتا ہے۔وہ عربی فقرہ یہ ہے تِلكَ الغَرَانِيقُ العُلى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُر تخی۔پھر اس فقرہ کا ترجمہ کرتا ہے۔یہ تینوں بہت بڑے بزرگ ہیں اور ان کی شفاعت کی امید رکھنی چاہیئے۔میں نے اسلام کے مختلف مذاہب کے لوگوں سے یہ سورہ نجم سنی ہے کسی میں یہ ناپاک اور گندہ شرک کا بھرا فقرہ نہ پایا اور نہ کسی مطبوعہ یا قلمی قرآن کریم میں لکھا ہوا دیکھا۔مکذب کے تمام ان اعتراضات کا مدار جن کو صفحہ ہ ے سے شروع کیا ہے یہی ناپاک اور شیطانی فقرہ ہے جس کو مکذب نے کہا ہے کہ سورہ والنجم میں ہے اور فی الوقع سورہ نجم کیا