تصدیق براھین احمدیہ — Page 163
تصدیق براہین احمدیہ ۱۶۳ قرآن کریم میں نہیں۔پس مکذب کے اعتراض بھی نہ رہے۔ہاں پہلا حصہ دو آیت کر کے سورہ والنجم کے پہلے رکوع کی ان آیات کے آخر میں ہے جن کو مکذب نے دلیل نمبر ۳ تکذیب کے صفحہ نمبر ۶۴ میں لکھا ہے ان دونوں آیات کریمہ کو مع ان آیات کے جو سورہ والنجم کے ابتدا سے تا آیت ۱۷ ہیں اثبات صانع عالم سے بالذات تعلق نہیں مکذب نے نامنہمی سے اسے دلیل اثبات صانع گمان کیا ہے البتہ ان آیات کریمہ کو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی راستی اور عظمت اور بزرگی کے اثبات میں ایک خاص تعلق ہے اور یہ امر بھی چونکہ احقاق حق اور ابطال باطل میں ضروری ہے اس لئے مجھے اس رکوع کی تشریح اور بیان کی ضرورت پڑی۔ناظرین غور کریں ہر دو آیات مرقومہ صفحہ نمبر ۷۴ تکذیب کیسی لطیف ہیں اور کس خوبی کے ساتھ احقاق حق اور ابطال باطل کرتی ہیں۔سنو! مطالب دو قسم کے ہوتے ہیں اول بڑے ضروری دوسرے ان سے کم درجہ کے۔بڑے ضروری مطالب کو بہ نسبت دوسرے مقاصد کے بلا ریب تاکید اور براہین و دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے۔یہ میرا دعویٰ بہت صاف اور ظاہر ہے تاکید کے واسطے ہر زبان میں مختلف کلمات ہوا کرتے ہیں ایسے ہی عربی زبان میں بھی تاکید کے لئے بہت الفاظ ہیں۔مگر ایشیائی زبانوں میں جیسے علی العموم قسم سے بڑھ کر کوئی تاکیدی لفظ نہیں۔ایسے ہی عربی کے لٹریچر میں بھی قسم سے زیادہ کوئی تا کیدی لفظ نہیں۔قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا۔اس لئے اس میں عربی محاورات پر ضروری مطالب میں قسموں کا استعمال بھی ہوا۔اقسام القرآن کی نسبت جہاں مکذب نے اعتراض کیا ہے وہاں مفصل انشاء اللہ بیان کروں گا۔رہی یہ بات کہ اہم اور بہت ضروری مطالب میں براہین اور دلائل کا بیان کرنا بھی ضروری ہوتا ہے قرآن کریم نے ان مطالب میں قسموں کے علاوہ اور کیا ثبوت دیا ہے؟ سویا در ہے جہاں