تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 161 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 161

تصدیق براہین احمدیہ ۱۶۱ مكذب۔غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ۔چونکہ مسلمان تناسخ کے قائل نہیں پس خدا کا کسی کو نعمت دینا اور کسی پر غضب کرنا اور کسی کو گمراہی میں ڈالنا۔چہ معنی دارد۔نہ اس کا انصاف قائم رہتا ہے نہ اس کا رحم اور نہ اس کا علم ، أَنعَمتَ عَلَيْهِمُ - مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ - ضَالٌ عَلَيْهِم کی ضمیر میں خدا کی طرف پھرتی ہیں۔پس ان اعمال کا فاعل خدا ہوا۔انتھی مختصرًا۔مصدق۔آپ تو بڑے عربی دان ہیں اس کلام میں۔کون سی ضمیر میں خدا کی طرف پھرتی ہیں ذرہ تو سوچو۔خدا کا کسی کو نعمت دینا اور بدوں کسی سابق مزدوری اور کسی محنت کے اللہ تعالیٰ کا انعام اور اکرام کرنا، اس کی رحمت اور فضل کا نشان ہے جو باری تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفت ہے۔تناسخ والے تو یہی کہیں گے ہمیں یہ آرام اور راحتیں جوملی ہیں ہماری محنتوں اور ہمارے کاموں کا پھل ہے۔اگر مان لیں کہ منصف بادشاہ کا ضروری کام ہے تو کوئی اس کا فضل خاص اور خالص احسان نہیں۔مگر مسلمان آرام پانے والا یہ کہے گا کہ یہ باری تعالیٰ کا فضل اور احسان اور اس کی دیا لتا اور کر پالتا ہے۔اور کسی پر غضب کا آنا بے وجہ نہیں ہوتا قرآن خود غضب کے وجوہ کو بیان کرتا ہے۔سنو۔وَلَكِن مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (النحل: ۱۰۷)۔بِئْسَمَا اشْتَرَوْا أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللهُ بَغْيًا أَنْ يُنَزَّلَ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَاءُ وَ بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ وَلِلْكُفِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ (البقرة : ٩١) دیکھو غضب کے اسباب قرآن کریم میں کس طرح بیان ہوتے ہیں؟ اور دیکھو غضب بھی بے وجہ نہیں آتا بلکہ اس صورت میں آتا ہے جب کسی نے اپنے دل کی وسعت میں بجائے اس کے کہ الہی محبت کو جگہ دیتا الہی نافرمانی کو جگہ دی۔ضالین کا صیغہ بخلاف مَغْضُوب مجہول نہیں معروف کا صیغہ ہے صال کے معنے گمراہ ہونے والا ، بہکنے والا ، اس ضد کو چھوڑو یہ بھی کوئی اعتراضات