تصدیق براھین احمدیہ — Page 160
تصدیق براہین احمدیہ ۱۶۰ اس اعتراض کو کیا چسپید گی ہے؟ خواہ مخواہ اعتراض کرنے کا ٹھیکہ لے لینا ہے۔نفس کلمات طیبات میں کیا نقص ہے؟ اس کے معانی کیا فطرت انسانی سے مناسبت نہیں رکھتے ؟ ناظرین با انصاف سو چواس میں ہم تیرے ہی ذلیل محتاج بندے فرمانبردار بندے ہیں اور ان اپنے اقراروں پر مستقیم رہنے اور ہر طرح کی ضروریات کے سرانجام و انصرام کے لئے تیری ہی جناب سے مدد چاہتے ہیں، کیا نقص ہے؟ اس قسم کے اعتراض ظاہر نہیں کرتے کہ ان لوگوں میں مخالفت حق اور ترویج بطلان کی کس قدر عادت ہے! مجھے یقین واثق ہے کہ ان لوگوں کی ایسی کارروائی قرآن کریم کی صداقتوں کی اور بھی زیادہ استحکام دینے والی اور اشاعت کرنے والی ہوگی اور صاحبان بصیرت پر کھل جائے گا کہ بغض آلود دلوں نے مہ منیر کو تیرہوتا رثابت کرنے کی ناکامیاب کوشش کرنی چاہی ہے۔قرآن کریم نے جس قدر تاکید تحصیل علوم کی کی ہے ایسی دنیا میں کسی الہی الاصل ہونے کا دعویٰ کرنے والی کتاب نے نہیں کی۔اللہ اکبر ! سارا قرآن انہیں مضامین سے لبریز ہے۔کہیں کائنات الجو کی طرف توجہ دلانے کو فرماتا ہے اَفَلَم يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمُ الآية (ق: 4 ) اور اس کی مثل بیسیوں آیتیں۔کہیں تحصیل علوم طبقات الارض و معد نیات وغیرہ کی طرف دلوں کی توجہ کو معطوف کرتا ہے وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ (الغاشية: ۲۰)۔غرض اس کلام مجید کا طرز بیان اور سیاق کلام ہی اس طرح واقع ہوا ہے کہ نصیحت و ہند کے اول و آخر نظار ہائے فطرت و مشاہد قدرت کے نقشے کھینچتا ہے اور اس قسم کی آفاقی و انفسی (اندرونی و بیرونی) شہادتوں سے اپنے کلام اللہ ہونے کا صریح ثبوت دیتا ہے۔عبرت انگیز اور نصیحت آمیز کلام کے مقطع میں ضرور یہ قابل غور الفاظ وار دکرتا ہے يَعْلَمُونَ، يَعْقِلُونَ، يَتَفَقَّهُونَ، يَتَذَكَّرُونَ، يَتَدَبَّرُونَ۔اب ان ترغیبات کا منشا کیا ہے؟ یہی کہ اس کے پیرو، غور و تفکر کے مذہبا پابند ہو جاویں ورنہ وہ اتباع کتاب اللہ کی صفت سے موصوف نہ ہوسکیں گے۔سبحان اللہ ! اس سے زیادہ ذخائر علمی کے اکٹھا کرنے کی اور کیا ترغیب و تحریص ہو سکتی ہے؟ أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا الآية (الحج : ۴۷) یعنی عالم کی سیر و سیاحت کرو جس سے سوچنے والے دل پیدا ہوں۔