تصدیق براھین احمدیہ — Page 159
تصدیق براہین احمدیہ ۱۵۹ تہذیب اشارات اس کی نسبت کئے جاویں؟ مكذب اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 1) - آج کل سیدھی راہ ایک اور بھی مشہور ہے پھر کہتے ہیں اگر سیدھی راہ کے طلبگار ہو تو علم اور عقل کو کیوں دخل نہیں دیتے اور معقولات کے پڑھنے سے کیوں گریز ہے“۔مصدق۔آپ نے یہاں عجیب و غریب طور پر انصاف کی راہ اختیار کی ہے۔دل کو روکتا ہوں، تھامتا ہوں، کانشنس دھکے دیتی ہے مگر مبار کی ہو! اس پاک مذہب اسلام کو جس نے گالی اور بدتہذیبی کا بدلہ اس قسم کی کارروائی کے ساتھ دینے سے منع کیا ہے جس نے حکم دیا ہے وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل : ۱۲۶) اور پھر فرمایا ہے وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا الله عَدُوا بِغَيْرِ عِلْم (الانعام: ۱۰۹) افسوس صد ہزار افسوس! پاکیزگی اخلاق اور طہارت باطن دنیا سے یک قلم موقوف ہو گئی۔اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس قدر بے با کی اور کپکپا دینے والی گستاخی روا رکھی گئی۔اگر کوئی منصف ہو تو اس کے نزدیک اس ناشائستہ کتاب ( تکذیب) کی بے قدری اور خفت کے لئے بس ایسے ناجائز مضامین کا ہونا ہی بس ہے۔تعجب پر تعجب ہوگا اگر اس پر بھی یہ کہا جاوے کہ تکذیب لا جواب لکھی گئی یا مطلب خیر لکھی گئی ض کا منہ کالا ہوصاف اور سیدھی باتوں سے بھی کیسے پھر ا دیتی ہے۔یہ بھی کیا اعتراضات ہیں؟ ان کا کافی جواب یہی ہے کہ ان کے جواب سے اعراض کیا جاوے۔کیا یہ آپ کا اتہام آمیز کلام کچھ بھی انصاف پر مبنی ہے؟ مسلمانوں کو اسلام کو علم و عقل کی راہ سے کب نفرت ہوئی مسلمانوں نے علوم و فنون میں جس قدر ترقی کی اور دنیا میں انوار علوم کی اشاعت کی ایک عالم اس کا شاہد ہے۔اہل یورپ اس امر کے معترف ہیں کہ یورپ کی آغاز شائستگی اور قوائے عقلی کی شگفتگی کا اصلی چشمہ عرب اور اہل عرب ہیں افسوس بغض وعناد نے ہمارے مخالفوں کو اس درجہ تک پہنچادیا کہ مسلمات سے انکار کرتے ہوئے بھی کوئی حیا دامنگیر نہیں ہوتی۔مسلمانوں کی اصطلاح میں کفر کے زمانہ کو ایام جاہلیہ کہا گیا ہے جس سے صاف عیاں ہے کہ جہالت اور بے علمی سے اس قوم کو کیسی نفرت رہی ہے؟ خیر کچھ ہی سہی مگر اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنَ (الفاتحة: ۵) سے