تصدیق براھین احمدیہ — Page 157
تصدیق براہین احمدیہ ۱۵۷ لطیفہ۔امید ہے کہ غالبا ناظرین پسند کریں گے بجائے لفظ وقت اور حین کے قرآن نے یوم کا لفظ ملِكِ يَوْمِ الدِین میں کیوں اختیار کیا؟ سوگزارش ہے کہ عرب لوگ کبھی رات کی طرف ان امور کو نسبت کرتے ہیں جن میں نقص اور عیب ہوتا ہے دیکھو شعر حماسہ کا لاذَتُ هُنَالِكَ بِالْاشُعَافِ عَالِمَةٌ ان قَدْ أَطَاعَتُ بِلَيْل أَمْرٍ غَادِيهَا اگر چہ بعض اوقات کسی خاص مصلحت کے واسطے لیل کی طرف بھی بعض امور کو منسوب کرتے ہیں۔مگر وہاں لیل کو خاص صفت سے موصوف کر لیتے ہیں یا اسے معرف بالسلام بنا لیتے ہیں۔جیسے اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِى لَيْلَةِ قُبُرَكَةِ (الدخان: ٢) اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (القدر:۲) وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةٌ لَكَ (بنی اسرائیل :۸۰) اسی واسطے باری تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم جو انصاف کرتے ہیں وہ بے نقص ہوتا ہے اس میں حرف گیری کا موقع نہیں ہوتا۔ہمارا انصاف اور ہماری سزا روز روشن کا معاملہ ہوتا ہے۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة: ۵) - پر مکذب کا اعتراض ہے۔”چوری قبل ، ڈکیتی ، قمار بازی کے لئے یہی کلام مسلمانوں اور ان کے ملانوں کا وظیفہ ہوا کرتا ہے۔مكذب! انصاف تو کرو۔یہ کیا اعتراض ہے؟ چوری، ڈکیتی، قمار بازی خدائی عبادت نہیں اور نَسْتَعِينُ سے پہلے اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا لفظ ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ تیرے ہی فرمانبردار ہوں یار ہیں اور نَسْتَعِيْنُ کے مابعد اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: ٢) موجود ہے جس کے معنے ہیں۔دکھا ہمیں سیدھی راہ ، ہوش کرو چوری کی نسبت خود قرآن کریم میں حکم ہے السَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاء بِمَا كَسَبَا (المائدة :٣٩) وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (البقرة: ۱۸۹) ے چوری کرنے والا اور چوری کرنے والی ان کے ہاتھ کاٹ دو بدلے میں ان کے کسب کے۔ے اپنے مال کو آپس میں ناحق مت کھاؤ۔