تصدیق براھین احمدیہ — Page 153
تصدیق براہین احمدیہ ۱۵۳ گوشت خوار جانور دانتوں کی چھریاں لے کر موجود ہو جاتے۔پنجم لوگوں کے کھیت ضائع کرتے تو کھیت والے آخر ان سے وہی معاملہ کرتے جو ذبح کے مجوز کرتے ہیں۔ششم اگر بدوں جواز فتویٰ ذبح سب جانور خود مر جاتے تو ان کی عفونت باعث امراض ہوتی۔یا جلانے کی مالا يطاق تکلیف بے وجہ انسان پر رکھی جاتی۔اس واسطے اللہ تعالیٰ نے جنگلوں میں تو شکاری جانوروں اور گوشت خواروں کو پیدا فرمایا اور شہروں میں مجوزین ذبح کو۔ہند کے اصل باشندے یا تو گوشت خوری کے مجوز ہوں گے یا انہیں عفونتوں کے سبب کمزور ہوکر ہمیشہ مغلوب ہی رہے۔بعضے یہ اعتراض کرتے ہیں گوشت اگر قدرتی طور پر انسان کے لئے مفید ہوتا تو انسان کو اس میں اتنی صنعت اور تکلیف کی حاجت نہ ہوتی۔اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی مرغوبات اور اس کی پسندیدہ چیزیں سب کی سب اس کے تصرف اور ترکیب سے اسے پسندیدہ ہوتی ہیں۔کیونکہ یہ مرکب القویٰ متصرف اور جامعیت کا پہلا بھلا بدوں دخل خود کچھ پسند کرتا ہے؟ اس کی میوہ خوری میں میووں کی تراش اور تصفیہ کو دیکھو۔اس کی غمگسار بی بی کے زیورات پر نگاہ کرو۔اس کے جواہرات کی بناوٹ پر نظر دوڑاؤ، اس کے لباس کو سوچو۔اس لئے تو اس کو مردار کا کھانا اور خون کھانا حرام ہوا کہ اس کو اس سے بدمزگی نہ ہو۔ایک اور قدرتی نظارہ دیکھو۔عمدہ صفات میں شجاعت ہے اور گوشت اس کا معین ہے۔اس واسطے گوشت خوروں میں فتحمندی محدود رہی اور جبانت نہایت درجہ کی رذالت ہے اور گوشت اس کا دشمن ہے۔اگر کاملین کو اجازت ذبح نہ ہوتی تو شریر خود احکام الہی اور احکام فطرت کے پابند نہ ہوتے۔ضرور گوشت کھاتے اور کاملوں کو ستاتے اور دنیا کو انواع اقسام کے مفاسد کا سامنا کرنا پڑتا۔اللہ تعالیٰ نے کاملین کو بھی اجازت دے دی کہ اشرار کا مقابلہ کر سکیں۔گوشت خوری ایک ضروری امر ہے علم اور اس کا تجربہ ایک ایسی ضروری چیز ہے جس پر انسان کی انسانیت کا مدار ہے اور ظاہر ہے کہ علوم کی ترقی بدوں صحرانوردی اور سیر و سیاحت جبل و بحار بالکل محال ہے۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسی ریاضت میں عمدہ غذا کی ضرورت ہے اور علوم کے