تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 152 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 152

تصدیق براہین احمد به ۱۵۲ (سوم) تعجب ہے کہ تمام دنیا کے جانوروں کا مرنا ، تمام مدعیان الہام کے نزدیک خدائے رحیم کی طرف منسوب ہے۔پھر نہایت تعجب ہے کہ ذبح کے حکم کو کیوں یہ لوگ رحم کے خلاف یقین کرتے ہیں؟ شکاری جانوروں کا خالق کیا رحیم نہیں ؟ امراض شدیدہ اور معمولی موت جو تدریجی اور سخت تکالیف کے بعد ہوتی ہے اس آنی موت ذبح سے اگر زیادہ تکلیف دہ ہے تو کیوں ایسی پہلی قسم کی موت دینے والا خدا یا وہ کر پالو، نیا کاری بنا رہتا ہے؟ اور ذبح کے حکم دینے سے ظالم کہا گیا ! آریہ صاحبان ! وبائی ہواؤں کا بھیجنے والا رحیم اور عادل نہیں؟ بے شک ہے! ضرور ہے ! اور قدرتی نظارہ دیکھ لو! انسان کی بناوٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خا کی پتلا ، حیوانات نباتات اور جمادات پر حکمران ہے۔اس کی بناوٹ بتاتی ہے کہ اس کا پورا حق ہے حیوانات سے سواری اور بار برداری کا کام لے۔ان کے بچوں کا دودھ پئے جانوروں پر حبس اور زدوکوب کی سزا بدوں جرم تجویز کرے جس کے باعث اگر جانوروں میں اور اک اور قوی ارادہ ہوتا تو ان سے خود کشی بھی ممکن تھی تو اس حکمران کے حق میں ایسی دیر پا تکالیف کے جواز پر ذبح کی تکلیف کی جو صرف ایک دو منٹ کے لئے ہوتی ہوگی۔کس عقل سے ممانعت کی جاتی ہے؟ ایک اور نظارہ دیکھولو ! قتل اخس بخاطر اشرف کل مذاہب میں معمول ہے۔روح کی خاطر اور حفاظت کے لئے بعض امراض میں اعضا کا کاٹنا پسند ہے اور زخم کے ہزاروں کیٹروں کا مارڈالنا ضرور ہے اور ان کیڑوں کا وہاں سے نکالنا اور جلا وطن کرنا لا بد ہے۔ایک بادشاہ یا ریفارمر کے بچانے کو ہزاروں جانوروں کا قتل جائز ہے تو کیا انسانی آرام کے لئے ذبح حیوانات ممنوع ہوگا ؟ ہر گز نہیں۔ذبح کا حکم جانوروں پر رحم ہے اوّل اگر جانوروں کے واسطے ذبح کا حکم نہ کیا جاتا تو بار برداری اور سواری کے کام میں سخت دکھ اٹھاتے۔دوم جانور پیری،ضعف ناتوانی اور عدم خبر گیری سے تکلیف پاتے۔سوم تدریجی موت کے شدائد سے ہر گز محفوظ نہ ہوتے۔چہارم ایک جگہ چارہ نہ ملتا جنگل میں کوئی ساتھ نہ جاتا پیری اور ضعف سے خود نہ جا سکتے۔اگر جاتے بھی تو وہاں قدرتی