تصدیق براھین احمدیہ — Page 138
تصدیق براہین احمد به ۱۳۸ سنو! کیا قرآن میں اللہ تعالیٰ کو خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ - الْقَيُّومُ - كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ نہیں کہا گیا؟ جس کے معنے سرب جگت کرتا۔سرب ادہار سرب سوامی کے ہیں اور کیا یہ تمام صفات لفظ اللہ کے معنوں میں داخل نہیں ؟ اب میں آپ کو چند ایسے لطائف سناتا ہوں جن سے منصف لوگ اسلام کی حقیت کی حقیقت اور دیانندی آریہ کا بطلان یقین کریں گے۔لطیفہ اولی آپ نے لفظ اوم سے تمام جگت کا کرتا۔اور تمام چرا چرمہان جگت کا بنانے والا اللہ تعالیٰ کو بتایا ہے۔میں پوچھتا ہوں تمام چراچر میں جیو (ارواح) اور اُن کے گن ، کرم، سبہا ؤ، پر مانو اور ان کے گن، کرم سبہا ؤ، کال داخل ہیں یا نہیں؟ اگر یہ چیزیں جگت میں داخل ہیں تو دیا نندی پنتھ بتاوے ان کا خالق کون ہے؟ اگر کہیں وہی ہے جس کو اللہ ، اوم، جگدیش کہتے ہیں تو چشم ما شاد دل ما روشن۔وَلَهُ الْأَسْمَاءِ الْحُسْنَى پس اللہ تعالیٰ کو خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ کہنے والا اور اس پر ایمان لانے والا مومن اور نجات کا پانے والا ہے ولِلهِ الْحَمْدُ۔اگر دیا نندی لوگ کہیں کہ یہ جگت میں داخل ہی نہیں اللہ تعالیٰ ان کا خالق نہیں تو بتادیں یہ فضائل قرآن کریم سے بڑھ کر کس امر کے مثبت ہوئے ؟ تمہارے فضائل والے وید نے تو تمہاری تحقیق پر اللہ تعالیٰ کے قدم اور بقا اور غیر مخلوق ہونے کی صفت میں بھی خدا کو یکتا نہ مانا !!! لطیفہ ثانیہ مکذب نے لفظ اوم سے ثابت کیا ہے کہ باری تعالیٰ تمام برکات کا چشمہ ہے اور جمیع فیوض کا مبدا۔میں پوچھتا ہوں ابدی نجات ہمیشہ کی مکت کوئی با برکت اور عمدہ چیز ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو اس رحیم ، کریم ، دیا لو، جگدیش کے گھر میں ضرور ہوگی کیونکہ وہ تمام برکات کا چشمہ اور جمیع فیوض کا مبدا ہے اور اگر ابدی نجات اور دائمی آرام کچھ بابرکت شی نہیں تو تھوڑے وقت کا آرام اور نجات بھی جو ابدی نجات کا جزو ہے اچھا اور بابرکت نہ ہوگا کیونکہ آپ کے علوم متعارفہ میں ہم پڑھ چکے ہیں ” جو گل میں نہیں وہ جزو میں بھی نہیں ہوسکتا۔مگر تھوڑے وقت کے آرام کو با برکت نہ کہنا بالکل غلط اور ہدایت کے خلاف ہے۔