تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 77
تاریخ احمدیت۔جلد 28 77 سال 1972ء حضور انور کی معیت میں ہال کے وسط میں تشریف لائے جہاں سب حاضرین نے باری باری آپ سے مصافحہ کیا۔آپ نے بالخصوص بیرونی ممالک میں فریضہ تبلیغ ادا کرنے والے مبلغین اسلام سے مل کر بہت مسرت کا اظہار فرمایا اور ان میں سے ہر ایک کے متعلق دریافت فرمایا کہ انہوں نے دنیا کے کس کس ملک میں کتنا کتنا عرصہ فریضہ تبلیغ ادا کیا ہے۔جماعتی دفاتر کا معاینہ اگلے روز (۱۸ را پریل) کو سفیر موصوف نے محترم چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ کی معیت میں دفاتر صدر انجمن احمدیه، دفاتر تحریک جدید، دفاتر وقف جدید، دفاتر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ نیز تعلیمی اداروں میں سے جامعہ احمدیہ تعلیم الاسلام کالج، تعلیم الاسلام سائنس کالج ( نیو کیمپس) اور خلافت لائبریری کا معاینہ فرمایا۔جس دفتر اور جس ادارہ میں بھی آپ تشریف لے گئے افسران و کارکنان نیز تعلیمی اداروں کے سربراہان، صدر شعبہ جات اور طلباء نے آپ کا نہایت پر تپاک خیر مقدم کیا۔بالخصوص آپ نے دفتر وکالت تبشیر میں (جہاں محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلی و وکیل التبشیر نے آپ کو غلبہ اسلام کی آسمانی پیشگوئیوں نیز تبلیغ اسلام کے عالمگیر نظام اور اس کے نتائج واثرات کے متعلق معلومات بہم پہنچائیں ) جماعت کی تبلیغی مساعی کے عالمگیر نظام سے متعلق تفصیلات کو خاص اشتیاق سے سنا۔اسی طرح مبلغین اسلام تیار کرنے والے دینی ادارے جامعہ احمدیہ کے طریق تعلیم، نصاب اور بالخصوص حافظ کلاس میں جس میں بعض غیر ملکی طلباء بھی قرآن مجید حفظ کر رہے ہیں آپ نے خاص دلچسپی ظاہر فرمائی اور اس ضمن میں جامعہ کے پرنسپل سید داؤ داحمد صاحب نے آپ کے استفسارات کے جو جواب دیئے انہیں بہت توجہ اور شوق کے ساتھ سنا۔آپ اُس سینئر کلاس میں بھی تشریف لے گئے جس میں طلباء استاد کی مدد کے بغیر روزانہ باری باری قرآن مجید کا درس دیتے ہیں۔آپ طلباء میں خود اعتمادی اور شغف پیدا کرنے کے اس طریق سے بہت متاثر ہوئے۔جامعہ میں آپ نے ممبران اسٹاف کے علاوہ جملہ طلباء سے بھی مصافحہ کیا۔نیز حافظ کلاس کے سب سے نو عمر طالب علم کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور اسے بہت شاباش دی۔حضور انور سے الوداعی ملاقات دفاتر اور تعلیمی اداروں کے معاینہ سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے سوا دس بجے قصرِ خلافت