تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 78 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 78

تاریخ احمدیت۔جلد 28 78 سال 1972ء میں تشریف لا کر سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے الوداعی ملاقات فرمائی۔حضور نے آپ کو رخصت فرمانے سے قبل قرآن مجید مع انگریزی ترجمہ اور متعدد دیگر اسلامی کتب بطور تحفہ عطا فرمائیں۔جنہیں آپ نے بصد شوق شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔اس کے بعد آپ صبح دس بج کر ۳۵ ، پر محترم باجوہ صاحب کی معیت میں ربوہ سے بذریعہ موٹر کار لائل پور واپس تشریف لے گئے۔62 اخبار المنبر “ ( لائل پور) نے ” چینی سفیر کی ربوہ میں خفیہ آمد اور شاہانہ استقبال“ کے عنوان سے خصوصی ادار یہ لکھا۔جس میں حسب عادت بہت کی بے سرو پایا میں تحریر کیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا، پاکستان سے مارشل لاء کے خاتمہ اور عبوری آئین پر بصیرت افروز خطبہ جمعہ صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے ۱/۲۱/۲۰ پریل ۱۹۷۲ء کی شب کو ملک میں عبوری آئین نافذ کر کے مارشل لاء کے اٹھانے کا اعلان کر دیا جس کے بعد ملک میں قانون کو بالا دستی حاصل ہوگئی۔اس مرحلہ پر سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ایک خصوصی خطبه جمعه (۱/۲۱ پریل ۱۹۷۲ء) ارشاد فرمایا۔جس میں اس دن کو عوامی حکومت کے سورج کے طلوع سے تعبیر کرتے ہوئے ملک کے پچیس سالہ دور حکومت کا نہایت مختصر مگر بلیغ تجزیہ کیا۔پھر ۱۹۷۰ء کے الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔مجھے کسی آدمی نے بتایا ہے واللہ اعلم یہ صحیح ہے یا غلط کیونکہ میرے پاس تو ایسے ذرائع نہیں ہیں کہ میں حکومت کو ملنے والی رپورٹوں کے متعلق یہ کہہ سکوں کہ واقعی ایسی رپورٹ کی گئی تھی تاہم یہ بات مشہور ہے کہ گذشتہ انتخابات سے معا پہلے پنجاب کے متعلق حکومت کی انٹیلی جنس کی رپورٹ یہ تھی کہ دولتانہ صاحب کو پنجاب سے قومی اسمبلی کی ۲۵-۲۶ نشستیں ملیں گی۔جماعت اسلامی کو ۱۳ - ۱۴ نشستیں ملیں گی اور پیپلز پارٹی کوے، ۸ نشستیں ملیں گی وغیرہ۔اس طرح انہوں نے پنجاب کی جو کہ غالباً ۸۲ نشستیں ہیں ان کا تجزیہ کیا ہوا تھا۔جب انتخابات سے شاید ایک دن پہلے کسی نے مجھے یہ بتایا کہ یہ ان کا آخری تجزیہ ہے تو میں نے کہا نہ سیاستدانوں کو کچھ پتہ ہے اور نہ یہ جو حکومت کے کان اور