تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 76 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 76

تاریخ احمدیت۔جلد 28 76 سال 1972ء مبارک احمد صاحب اور مکرم سید داؤ د احمد صاحب کی معیت میں گیسٹ ہاؤس کے اندر تشریف لے گئے۔چند منٹ سفیر موصوف سے باتیں کرنے کے بعد حضور ان سے رخصت ہو کر قصر خلافت واپس تشریف لے آئے۔دعوت چائے کا اہتمام پانچ بجے شام حضور انور نے سفیر موصوف کے اعزاز میں قصرِ خلافت کے عقبی لان میں وسیع پیمانہ پر دعوت چائے کا اہتمام کرایا۔اس میں سفیر موصوف کے علاوہ مرکزی عہدیداران جماعت ، صوبائی امراء، ربوہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلباء، گورنر پنجاب کے مشیر جیل خانہ جات محترم صوفی نذرمحمد صاحب اور صوبائی اسمبلی کے بعض ممبران نے بھی شرکت فرمائی۔دعوت چائے سے فارغ ہونے کے بعد سفیر موصوف موٹر کار کے ذریعہ نوتعمیر شدہ نہایت وسیع و عریض جامع مسجد کی عالیشان عمارت جو مسجد اقصی کے نام سے موسوم ہے دیکھنے تشریف لے گئے۔آپ اسلامی طریق کے مطابق جوتے اتار کر مسجد میں داخل ہوئے اور عمارت کے تفصیلی معاینہ کے بعد بہت پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔اس موقع پر آپ نے مسجد کی چھت پر جا کر بلندی سے ربوہ کے شہر پر طائرانہ نظر ڈالی اور شہر کی وسعت اور پھیلاؤ کا جائزہ لیا۔بعد ازاں آپ نے موٹر کار میں بیٹھے بیٹھے ہی اس علاقہ کی سیر کی جس میں ربوہ کے تعلیمی ادارے اور کھیل کے میدان واقع ہیں۔دعوت طعام رات کو ساڑھے آٹھ بجے اہل ربوہ کی طرف سے مجلس خدام الاحمدیہ کے وسیع وعریض ہال ایوان محمود میں بہت وسیع پیمانہ پر دعوت طعام کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر ایوان محمود کو اندر سے بہت نفاست اور نظافت کے ساتھ سجایا گیا تھا۔اس دعوت میں جو احباب مدعو تھے ان میں مرکزی عہد یداروں کے علاوہ صوبائی اور بعض ضلعی امراء جماعت، بیرونی ممالک میں فریضہ تبلیغ ادا کرنے والے مبلغین اسلام نیز ربوہ میں دینی تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلباء بھی شامل تھے۔اکرام ضیف کے جذبہ کے ماتحت از راہِ شفقت حضور انور نے بھی اس میں شرکت فرمائی۔علاوہ ازیں اس موقع پر گورنر پنجاب کے مشیر جیل خانہ جات محترم صوفی نذر محمد صاحب اور محترم غلام مرتضی صاحب پراچہ ڈپٹی کمشنر جھنگ بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔دعوت طعام کے اختتام پر سفیر موصوف