تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 66
تاریخ احمدیت۔جلد 28 66 سال 1972ء نے ۱۹۶۶ء میں تعمیر کرائی تھی۔جماعت احمد یہ ابادان نے ۶ ا پریل ۱۹۷۲ء کو اس تحفہ کو قبول کرنے کے لئے ایک خصوصی تقریب منعقد کی جس میں مولوی محمد اجمل صاحب شاہد انچارج مشنری نائیجیریا نے اس مخیر خاتون کے جذبہ دینی کو سراہتے ہوئے بتایا کہ خدا کا یہ گھر ہمیشہ الحاجہ ثریا اور ان کے والد ماجد کی طرف سے صدقہ جاریہ رہے گا اور اگر چہ اسے جماعت احمدیہ کی تحویل میں دیا گیا ہے لیکن اس کے دروازے بلا تمیز خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لئے کھلے ہیں۔اس موقعہ پر الحاجہ ثریا نے مختصر تقریر کے بعد مسجد کی چابیاں مولوی محمد اجمل صاحب شاہد کو پیش کیں۔آپ نے نعروں کی گونج میں دروازہ کھولا اور پھر اجتماعی دعا کرائی۔52 دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں ایک الوداعی تقریب ۷ را پریل ۱۹۷۲ء کی شام کو دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ کے عملہ کی طرف سے ایک الوداعی تقریب منعقد کی گئی جس میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے بھی شرکت فرمائی اور عملہ کے ساتھ فوٹو بنوائی۔مکرم بشیر احمد رفیق خان صاحب نہایت کامیابی کے ساتھ ایک سال تک پرائیویٹ سیکرٹری کی اہم خدمات بجالانے کے بعد اعلائے کلمتہ اللہ کی غرض سے واپس انگلستان تشریف لے جارہے تھے۔دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے رکن محمد سلیم صاحب نے الواداعی ایڈریس میں ان کے حسن سلوک، محبت و خلوص اور باغ و بہار طبیعت کا ذکر کرنے کے بعد انہیں نہایت پر خلوص طور پر الوداع کہا۔اجتماعی دعا پر یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔53 جماعت احمدیہ کراچی کا ذکر خیر سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ۱۴ را پریل ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں کراچی کو مثالی جماعت قرار دیتے ہوئے فرمایا:۔دوستوں کی بڑی بھاری اکثریت ایسی ہے جو بحیثیت جماعت ہر قسم کی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہے اور وہ عملاً دے بھی رہے ہیں اور بہت بھاری اکثریت ایسے دوستوں کی ہے جو سلسلہ کے کاموں کے لئے اپنا وقت قربان کرتے ہیں۔اپنے آرام کو قربان کرتے ہیں اپنی توجہ کو قربان کرتے ہیں مثلاً وہ اپنی توجہ اپنے بیوی بچوں کی طرف پھیر سکتے تھے مگر وہ اپنی اس توجہ کو الہی سلسلہ کے کاموں کی