تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 67 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 67

تاریخ احمدیت۔جلد 28 67 سال 1972ء طرف پھیر دیتے ہیں وہ درد جو اپنے محدود ماحول کے لئے ان کے دلوں میں پیدا ہو سکتا تھا وہی درد وہ جماعت کے لئے اور پھر بنی نوع انسان کے لئے اپنے دل میں پیدا کرتے ہیں اور خدمت کے جذبہ سے معمور ا کثر خدمت خلق میں مشغول رہتے ہیں۔چنانچہ ایسی مثالیں کثرت سے ہیں جن میں اس وقت بڑی نمایاں مثال جماعت احمدیہ کراچی کی ہے۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں جہاں تک مالی قربانی کا سوال ہے ساری جماعت ہی مالی قربانی دینے کے لئے تڑپتی رہتی ہے لیکن جہاں نظام قائم ہو اور نظام میں پختگی پائی جاتی ہو وہاں کے بہت سے دوست یہ سمجھتے ہیں کہ نظام کے ماتحت محصل جائے گا اور وہ پیسے وصول کرے گا اور رسید میں دے گا۔پس احباب میں چندے دینے کی تڑپ کی کمی نہیں ہوتی۔یہ نظام کی سستی یا نظام میں چستی کی کمی ہوتی ہے کہ جس کی وجہ سے وقتی طور پر ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ فلاں حلقہ مالی قربانیوں کے دینے میں پیچھے رہ گیا ہے۔جہاں تک وقت کی قربانی کا سوال ہے اس کے متعلق میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بتایا تھا کہ خود میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ وہ لوگ جو بظاہر اپنے دنیا کے کاموں میں پڑے ہوئے ہیں وہ پانچ پانچ چھ چھ گھنٹے اور بعض دفعہ تو میرا خیال ہے کہ ہمارے صدر انجمن احمد یہ اور دوسرے اداروں کے کارکنوں سے بھی زیادہ وقت رضا کارانہ طور پر جماعتی کاموں کے لئے خرچ کرتے ہیں اور بڑی محنت اور بڑے پیار اور بڑی توجہ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور سلسلہ احمدیہ جسے خدا تعالیٰ نے غلبہ اسلام کے لئے قائم فرمایا ہے اس کے لئے تڑپ رکھتے ہیں اور اس کی ترقی کے لئے دن رات محنت میں لگے ہوئے ہیں۔اب جس جماعت کے عہدیدار اس قسم کی لگن کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ظاہر ہے کہ وہ جماعت مالی قربانیوں میں بھی آگے نکل جاتی ہے۔چنانچہ ابھی کل ہی مجھے جماعت احمدیہ کراچی کی طرف سے اطلاع ملی ہے کہ انہوں نے اپنے سالانہ بجٹ سے قریباً دس ہزار روپیہ زائد جمع کر دیا ہے حالانکہ ابھی موجودہ مالی سال ختم نہیں ہوا۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔اب یہ بڑا خوشکن نتیجہ ہے ہزار ہا دوست مالی قربانی دینے والے کراچی کی