تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 65 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 65

تاریخ احمدیت۔جلد 28 65 سال 1972ء قبول کرنا تو کیا، پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھنا تو کیا، انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔گو وہ اسلامی تعلیم کے مطابق شائستہ گفتگو کریں گے تمہارے خلاف گند نہیں اچھالیں گے۔ناکامی کے خمیر سے تم بنے ہو اور ہماری فطرت میں نا کامی کا کوئی خمیر ہے ہی نہیں۔پس یہ تو ان مولویوں کو جواب ہے لیکن حکومت کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تمہیں خدا نے مفتی نہیں بنایا۔اس واسطے صحیح یا غلط ( میں کہتا ہوں کہ صحیح فتوی دینے کا بھی انہیں حق نہیں اس لئے صحیح یا غلط ) فتووں میں نہ الجھو کیونکہ اس سے ہمارے ملک کو ایسا نقصان پہنچے گا جس کی تلافی پھر ممکن نہیں ہوگی۔دوسرے انہیں میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ تمہارے لئے حکم یہ ہے کہ تم خدا اور اس کے رسول کے ارشادات کی پیروی کرو یہی ہے اسلامی سیاست اور اسلامی معاشرہ۔تم کفر کے فتوے دے کر خوشی اور مسرت کے سامان پیدا نہیں کرو گے بلکہ دکھ اور حسرت اور تکلیف کے سامان پیدا کرنے والے ہو گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فتویٰ تمہارے اوپر لگے گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ کہ میرے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مسلمان کہلانے والا جو بھی ہے دنیا میں اس کو یہ شخص جو خود کو مسلمان کہتا ہے اپنے ہاتھ یا زبان سے تکلیف نہ پہنچائے۔تو اگر حکومت نے اس قسم کی غلط جرات سے کام لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فتویٰ ہے کہ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فتویٰ تمہارے اوپر یہ ہوگا کہ تم خود مسلم نہیں رہو گئے۔51 ابادان ( نائیجیریا) کی ایک خاتون کی طرف سے مسجد کا تحفہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے تاریخی دورہ مغربی افریقہ (اپریل، مئی ۱۹۷۰ء) کے دوران الحاجہ فاطمہ نے اجیبو اوڈے میں کثیر رقم سے تیار شدہ مسجد حضور کی خدمت میں پیش کی تھی جس کا افتتاح حضور نے فرمایا اور ان کے اخلاص و قربانی کی تعریف فرمائی۔اس سال ابادان کی ایک غیر از جماعت مخیر خاتون الحاجہ ثریا اگبا نجے صاحبہ نے بھی اس نیک مثال کی تقلید کی اور ایک ہزار پاؤنڈ سے بنی ہوئی مسجد جماعت احمدیہ کے سپر د کر دی۔یہ مسجد موصوفہ