تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 49
تاریخ احمدیت۔جلد 28 49 سال 1972ء فروری ۱۹۸۹ء میں پایہ تکمیل تک پہنچی۔اس چاردیواری پر لا کھ انیس ہزار آٹھ سوا کانوے روپے کی لاگت آئی۔39 مجلس مشاورت ۱۹۷۲ء اس سال عالمگیر جماعت احمدیہ کی سالانہ مجلس مشاورت ۳۱ مار پچ، کیم و ۲ اپریل ۱۹۷۲ء کو ایوانِ محمود میں منعقد ہوئی۔جس میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے نہایت ایمان افروز خطابات اور زریں نصائح سے نوازا۔پہلا دن ۳۱ مارچ حضور انور نے اپنے بصیرت افروز افتاحی خطاب میں فرمایا کہ گذشتہ سال دنیا کی سیاست میں ایک نیا موڑ آیا ہے جبکہ ایک تیسری اہم طاقت چین دنیا میں ابھر رہی ہے اور امریکہ نے اس کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کی ہے۔جس کی وجہ سے دنیا میں بڑی طاقتوں کی گروہ بندی میں تبدیلی واقع ہو گئی ہے اور ان حالات کا اثر دنیا بھر کے سیاسی اور اقتصادی حالات پر پڑا ہے۔جن سے ہم بھی باہر نہیں ہیں۔یہ حالات بتاتے ہیں کہ آئندہ ۲۰ - ۲۵ برس دنیا کے لئے اور انسانیت کے لئے واقعی بڑے نازک اور خطرناک ہیں۔دنیا میں اگر کوئی ایسا دل ہے جولوگوں کے دکھوں کے احساس سے تڑپ اٹھتا ہے تو وہ ایک احمدی کا دل ہے اس لئے ہماری جماعت کو خصوصیت سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ دنیا پر ایسا افضل کرے کہ وہ ہلاکت اور تباہی کی راہ سے بچ جاوے۔اس ضمن میں حضور نے نہایت درد کے ساتھ بنگلہ دیش کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا نصف حصہ کٹ گیا اور ایسے طور سے کٹ گیا کہ اب تک وہاں خونریزی جاری ہے۔وہاں جو ظلم ہوا اور ہورہا ہے اس کا خیال کر کے بھی ہماری راتوں کی نیند غائب ہو جاتی ہے۔پس دنیا اور خصوصیت سے ہمارا ملک دعاؤں کا بہت ہی محتاج ہے۔اس کے ساتھ ہی پاکستان کے استحکام کے لئے خاص کوشش کریں۔ہر قسم کی قربانیاں پیش کریں اور ہر وقت چوکس اور بیدار ر ہیں تا کہ دشمن یہاں اپنے منصوبے میں کامیاب نہ ہو۔مجھے ایک مندر خواب آئی ہے۔جس کی وجہ سے میں خاص طور پر یہ تحریک کرتا ہوں کہ احباب کو ملک کی خاطر صدقات کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ہر ایک کے ساتھ نیکی کا سلوک کرو اور غرباء کے دکھوں اور دردوں کا مداوا کرنے کی کوشش کرو تا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھے۔