تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 48
تاریخ احمدیت۔جلد 28 48 سال 1972ء کی عدم موجودگی میں چوہدری ظہور احمد صاحب قائمقام سیکرٹری رہے۔ان کے علاوہ دیگر ارکان کمیٹی کے نام درج ذیل ہیں۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب،صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب، سید میر داؤ د احمد صاحب، چوہدری ظہور احمد صاحب، مولانا عبدالمالک خان صاحب، چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ، میاں عبد الحق صاحب رامہ، شیخ محبوب عالم خالد صاحب، بشیر احمد خاں صاحب رفیق ،مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائل پوری۔مسجد کا نقشہ چودھری عبدالرشید صاحب احمدی چارٹرڈ آرکیٹیکٹ سابق پروفیسر انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور حال مقیم لنڈن نے تیار کیا۔چوہدری نذیر احمد صاحب انجینئر شروع سے لے کر اکتوبر ۱۹۷۱ء تک کام کی نگرانی کرتے رہے۔بہت سے دیگر احمدی انجینئر بھی تعمیر میں گہری دلچسپی لیتے رہے اور مشورہ دیتے رہے۔ان کے علاوہ بعض دیگر قابل اور مشہور انجینئروں کو بھی وقتاً فوقتاً مشورہ کے لئے بلا یا جاتارہا۔تا کہ اگر کسی جگہ بھی کوئی نقص نظر آئے تو اس کی نشاندہی اور اصلاح ہو سکے۔اس خدا کے اس گھر میں سو ۱۰۰ برقی پنکھے لگائے گئے۔پانی کی فراہمی کے لئے قریبی پہاڑی پر ۹۰ فٹ کی بلندی پر ایک ٹینکی نصب کی گئی جس میں پندرہ ہزار گیلن پانی کی وسعت تھی۔اس ٹینکی میں پانی لانے کے لئے ۱۶انچ بور کا ایک ٹیوب ویل ۲۷ سوفٹ کے فاصلہ پر ایسی جگہ لگایا گیا جہاں پر پانی میٹھا تھا۔روشنی کا بھی بہت معقول اور اعلیٰ انتظام کیا گیا۔لائٹ پوائنٹ کی تعداد دوصد ہے۔۶ فلڈ لائٹس صحن کے لئے ہیں۔جہاں ۵۰۰ واٹ کے مرکزی بلب نصب کئے گئے۔ایک فلڈ لائٹ سائیکل پارک اور ایک کار پارک کے لئے نصب کی گئی۔اس پرشکوہ عمارت میں جانے کے لئے وسیع راستے اور سڑکیں بنائی گئیں جن کے درمیان مختلف قطعات میں گھاس اور پھولوں کے پودے لگائے گئے جس کی وجہ سے اس کا ماحول بہت سرسبز اور خوبصورت منظر پیش کرنے لگا۔38 مسجد اقصی کی تعمیر کے بعد جمعہ اور عیدین کی مبارک تقریبات جو قبل ازیں مسجد مبارک میں ہوتی تھیں مسجد اقصیٰ میں ہونے لگیں۔سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی ہجرت انگلستان کے بعد صدرانجمن احمد یہ پاکستان کی طرف سے حفاظتی نقطہ نگاہ سے احاطہ مسجد کے اردگرد پختہ چار دیواری بنادی گئی۔نظارت اصلاح و ارشاد کے ریکارڈ کے مطابق اس کی تعمیر جولائی ۱۹۸۷ء میں شروع ہوئی اور