تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 47 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 47

تاریخ احمدیت۔جلد 28 47 سال 1972ء کے کنکریٹ سے بنایا گیا جو ۸۰×۲۲۰ فٹ ہے۔صحن کے ساتھ دونوں جانب ۲۰×۵۵افٹ کے دو برآمدے ہیں اور صحن ۱۸۰×۲۲۰ فٹ پر مشتمل ہے۔مجموعی طور پر مسجد میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیک وقت قریباً ۱۵ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔مرکزی ہال میں چونکہ کوئی ستون نہیں ہے اس لئے اس میں بیٹھے ہوئے تمام لوگ امام کی زیارت سے مشرف ہو سکتے ہیں۔مسجد کے مسقف حصے میں مستورات کے لئے ایک وسیع گیلری ہے جو ۲۰ × ۳۴۰ فٹ پر مشتمل ہے۔اس حصے میں سیمنٹ کی خوبصورت جالی کے پردوں کا نہایت معقول انتظام کیا گیا ہے۔اس مسجد کو یہ شرف حاصل ہے کہ شروع سے لے کر آخر تک حضرت خلیفہ المسیح الثالث اس کی تعمیر میں ذاتی طور پر گہری دلچسپی لیتے رہے۔درجنوں بار خود تشریف لے جا کر اسے ملاحظہ فرمایا اور متعلقہ کارکنان کو نہایت اہم اور قیمتی ہدایات سے نوازا۔اس امر کی حضور نے خاص طور پر بہت احتیاط کے ساتھ نگرانی فرمائی کہ عمارت کی تکمیل میں افادیت کا پہلو بہر حال مقدم رہے اور اخراجات میں کسی قسم کا بھی ضیاع نہ ہو بلکہ ہر ممکن کفایت سے کام لیا جائے۔آخری بار حضور نے افتتاح سے ایک روز قبل ۳۰ مارچ کو بعد نماز عصر مسجد اور اس کے افتتاح کے جملہ انتظامات کا معاینہ فرمایا صحن کی جانب سے مسجد میں داخل ہونے کے گیارہ گیٹ ہیں جن میں سے درمیانی دروازے کی محراب بہت بڑی ہے۔چار بڑے مینارے اور دو چھوٹے مینارے ہیں۔ان کے گنبد سفید رنگ کے ہیں۔بڑے گیٹ کے اردگرد نہایت خوبصورت رنگ دار ٹائلز لگائی گئیں جن کی وجہ سے مسجد کی خوبصورتی میں بہت اضافہ ہو گیا۔مسجد کی پیشانی پر دروازوں کے اوپر نہایت جلی ، روشن اور خوبصورت طور پر یہ الفاظ لکھے گئے۔الحكم الله _ لا غالب الا الله لا اله الا الله محمد رسول الله القدرة الله _ العِزَّةُ الله الا بذكر الله تطمئن القلوب۔مسجد کی دیواروں کی اونچائی ۲۵ فٹ ہے تمام کھڑکیوں اور روشندانوں میں ایسا شیشہ استعمال کیا گیا جس کی چمک اندر بیٹھنے والوں کی آنکھوں کے لئے تکلیف دہ نہ ہو۔محراب کی طرف جہاں پورچ بنایا گیا، دور استے الگ طور پر جاتے ہیں۔مسجد کی تعمیر کے لئے حضور کی عمومی نگرانی میں ایک کمیٹی مقرر کی گئی جس کے صدر صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب تھے۔سیکرٹری کے فرائض اکتوبر ۱۹۷۱ ء تک شیخ مبارک احمد صاحب سرانجام دیتے رہے۔جس کے بعد بریگیڈیر اقبال احمد صاحب شمیم نے اس نازک اور اہم ذمہ داری کو ادا کیا۔آپ