تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 38
تاریخ احمدیت۔جلد 28 38 سال 1972ء قرار دیتے ہوئے ان سے دلی بیزاری کا اظہار کیا اور سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں نہایت ادب سے گذارش کی کہ ہم حضور کے خدام اپنی جان ، مال اور ہر محبوب چیز حضور کے مقاصد کی تکمیل کے لئے قربان کرنے کو ہر وقت تیار ہیں۔ہم حضور کے جانثار خادم ہیں اور ہمیشہ حضور کا ساتھ دیں گے اور ر بوہ کی مقدس سرزمین پر منافقین کے قدموں کو ہر گز ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔اللہ تعالیٰ کی جماعتیں جب ترقی کی طرف گامزن ہوتی ہیں تو منافقین جنہیں یہ ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی مصلح کے روپ میں آکر لوگوں کو گمراہ کرنے لگتے ہیں۔قرآن مجید منافقین کی حرکات کو سمجھنے اور ان کا سد باب کرنے میں ہماری مکمل راہنمائی کرتا ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کی ایک واضح علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ جھوٹ سے کام لیتے ہیں۔اب بھی منافقین نے جن باتوں کو اپنی شرارت کا ذریعہ بنایا ہے سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہیں۔منافقین ہمیشہ ہی سے وحدت اسلام کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔موجودہ گروہ کا بھی یہی مقصد ہے۔ہم ان کی اس جسارت کو نہایت درجہ نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔جلسہ کے آخر میں چوہدری محمد صدیق صاحب ایم اے صدر عمومی لوکل انجمن احمدیہ نے صاحب صدر، مقررین اور جملہ سامعین جلسہ کا شکر یہ ادا کیا۔26 اس عظیم الشان جلسہ کے علاوہ یکم اپریل ۱۹۷۲ء کوصوبہ پنجاب اور دیگر صوبہ جات مغربی پاکستان کے صوبائی امراء اور ضلعی امرائے جماعت ہائے احمدیہ کا اجلاس زیر صدارت محترم مرزا عبد الحق صاحب امیر جماعتہائے احمد یہ صوبہ پنجاب منعقد ہو کر حسب ذیل قرار دادیں بالاتفاق پاس کی گئیں۔یہ قراردادیں محترم شیخ محمد احمد صاحب مظہر امیر جماعت ہائے احمد یہ ضلع لائل پور نے پیش کیں جن کی تائید محترم مولوی محمدعرفان خان صاحب امیر جماعت ہائے احمد یہ صوبہ سرحد اور محترم شیخ محمد حنیف صاحب امیر جماعت ہائے احمد یہ صوبہ بلوچستان اور محترم ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب صدیقی ڈویر پنل امیر حیدرآباد نے کی۔۔چند منافقین نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کو نقصان پہنچانے کے لئے جو ریشہ دوانیاں اختیار کی ہیں ہم ان کے خلاف شدید نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔۔ہم اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی بابرکت قیادت وسیادت میں جماعت احمدیہ کی روز افزوں ترقی منافقین کے لئے حسد اور بغض کا موجب بن رہی ہے لیکن ہمیں یقین