تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 39 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 39

تاریخ احمدیت۔جلد 28 39 سال 1972ء۔ہے کہ منافقین اپنے منصوبے میں انشاء اللہ خائب و خاسر رہیں گے۔۔ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے اس یقین پر قائم ہیں کہ خلافت حقہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ایک نعمت عظمی ہے اور خلیفہ خدا ہی بناتا ہے اور ہم خلافت کی حفاظت کے لئے کبھی کسی قسم کی قربانی سے بتوفیق الہی گریز نہیں کریں گے بلکہ حضور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے غلبہ اسلام کے لئے آگے سے آگے قدم بڑھاتے چلے جائیں گے۔انشاء اللہ۔ہم حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو خلیفہ برحق اور قدرت ثانیہ کا تیسر ا مظہر یقین کرتے ہیں۔۴۔قرار پایا کہ ان قرار دادوں کی نقول سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی خدمت میں بھیجی جائیں اور نیز سلسلہ عالیہ احمدیہ کے تمام اخبارات و رسائل کو بغرض اشاعت بھیجی جائیں“۔27 اخبار پیغام صلح لا ہور نے جو ہمیشہ ہی منافقین اور ان کے فتنوں کی پشت پناہی کرتا آرہا تھا اس موقع پر بھی اپنے دلی بغض و کینہ کا بر ملا اظہار کیا اور خلافت ربوہ میں انتشار کے زیر عنوان نوٹ لکھ کر نظام خلافت کو پارہ پارہ کرنے کا خواب دیکھنے لگا۔28 مگر ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی قدرت ثانیہ کی قہری تجلیات اس پر اور اس کے ہمنواؤں پر بجلی بن کر گریں اور بد باطن منافقین کے سب نا پاک عزائم خاکستر ہو کر رہ گئے۔قبولیت دعا کا ایک نشان مکرم چوہدری نذیر احمد صاحب باجوہ امیر جماعت ہائے احمد یہ ضلع ساہیوال کے خلاف ۱۹۷۲ء میں ایک جھوٹا مقدمہ دائر کیا گیا اور آپ کو بہت مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔آپ تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار نے حضرت خلیفہ اُسیح الثالث کی خدمت اقدس میں دعا کے لئے تحریر کیا اور حضور نے بھی خطوط کے ذریعہ سے مجھے تسلی دی۔آپ مزید تحریر کرتے ہیں کہ بالآخر حضور کی دعائیں رنگ لائیں اور خدائے رحمان اور خدائے غفار نے مجھے باعزت بری کر دیا۔نہ صرف یہ بلکہ اس قادر و توانا خدا نے اپنے پیارے خلیفہ کو پہلے سے میری بریت سے بھی مطلع فرما دیا تھا۔چنانچہ ایک بار جبکہ میرے بھائی عزیز نصیر احمد اور میری اہلیہ محترمہ نے حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر التجا کی کہ حضور دعا کریں کہ ضمانت ہو جائے تو حضور نے فرما یا ضمانت کا تو ہمیں خیال بھی نہیں آیا مجھے تو خدا تعالیٰ نے یہ اطلاع دی ہے کہ بری کر دیئے گئے ہیں چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔