تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 37
تاریخ احمدیت۔جلد 28 37 سال 1972ء یاد تازہ ہو گئی۔اس سلسلہ میں ۱۳ مارچ ۱۹۷۲ء کو بعد نماز عصر مسجد مبارک میں الحاج مرز اعبد الحق صاحب ایڈووکیٹ سرگودھا امیر جماعتہائے احمدیہ پنجاب کی زیر صدارت ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔جلسہ میں بزرگان جماعت اور علماء سلسلہ احمدیہ نے بڑے مؤثر پیرا یہ میں نظام خلافت کی اہمیت و عظمت اور اس کی عظیم الشان روحانی برکات کو واضح کیا اور ثابت کیا کہ قرآن حکیم اور احادیث نبویہ سے اور بزرگانِ امت کے اقوال اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضور علیہ السلام کے خلفائے عظام کے ارشادات سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ خلیفہ خود خدا بناتا ہے اور ہمیشہ اسے خدائی تائید و نصرت حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے خلافت کی برکات کو مشاہدہ کیا ہے اس لئے ہم علی وجہ البصیرت اس یقین پر قائم ہیں کہ ہمیشہ کی طرح اب بھی اور آئندہ بھی منافقین خائب و خاسر رہیں گے۔وہ مومنین کی جماعت میں کسی قسم کا رخنہ پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے خلافت ثالثہ کے موجودہ با برکت عہد میں شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔حتی کہ ساری دنیا پر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا لہرانے میں ہم انشاء اللہ کامیاب ہو جائیں گے۔پروگرام کے مطابق محترم الحاج شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ نے ” خلیفہ خدا بناتا ہے“ کے موضوع پر، محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد نے ” خلافت ثالثہ کے بابرکت عہد میں غلبہ اسلام کی عظیم الشان مہم کے عنوان پر اور محترم مولانا عبدالمالک خان صاحب ناظر اصلاح وارشاد نے ” خلفائے برحق پر منافقین کے اعتراضات اور ان کی حقیقت“ کے موضوع پر بڑی ہی پراثر اور ایمان افروز تقاریر فرمائیں۔صدر جلسہ محترم مرزا عبدالحق صاحب نے بھی مختصر طور پر تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ ہم میں سے ہر ایک خلیفہ وقت کے ایک اشارہ پر اپنی ہر ایک عزیز ترین چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔تقاریر کے دوران وقتاً فوقتاً حاضرین جلسہ پر جوش اسلامی نعروں کے ساتھ اسلام ، احمدیت اور خلافت کے ساتھ اپنی والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار کرتے رہے۔اس جلسہ میں مولانا نذیر احمد صاحب مبشر سابق مبلغ احمدیت افریقہ، مولا نانسیم سیفی صاحب سابق رئيس التبلیغ مغربی افریقہ اور پروفیسر ڈاکٹر نصیر احمد خان صاحب ہیڈ آف دی فزکس ڈیپارٹمنٹ تعلیم الاسلام کا لج ربوہ نے تین قراردادیں پیش کیں جو متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ان قرار دادوں میں اہل ربوہ نے ان نقاب پوش بزدل اور کمینہ خصلت منافقین کے الزامات کو جھوٹ کا شرمناک پلندہ