تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 36 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 36

تاریخ احمدیت۔جلد 28 36 سال 1972ء میں اپنے متعلق سوچتا ہوں تو اپنے آپ کو ایک ناکارہ مزدور پاتا ہوں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے متعلق یہی کہا تھا تو میں تو اتنا بھی نہیں۔غرض خدا کا ایک ناکارہ مزدور ہوں۔ویسے بھی انسان ہے کیا چیز جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال نہ ہو۔انبیاء علیہم السلام جس وقت کہتے ہیں یا ان کے خلفاء جس وقت یہ کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے آپ کو دیکھتے ہیں تو خود کو بالکل ناکارہ مزدور پاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر تو انسان کچھ بھی نہیں مگر جو خدا تعالیٰ سے ملاپ کے بعد ملتا ہے وہ انسان کا اپنا نہیں ہوتا وہ خدا تعالیٰ کا ہوتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ میری دعاؤں کو سنتا ہے اور اتنی کثرت سے سنتا ہے کہ آپ کو اگر میں ساری باتیں بتا دوں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔ممکن ہے آپ کے خیالات بھی پریشان ہو جائیں گے۔بعض دفعہ ابھی دعا کی نہیں ہوتی ، دل میں خیال ہی آتا۔اللہ تعالیٰ اسے بھی قبول فرمالیتا ہے۔ویسے یہ ٹھیک کہ اللہ اللہ ہے اور انسان انسان ہی ہے۔کبھی وہ ہماری دعا بھی رد کر دیتا ہے اور نہیں مانتا کیونکہ وہ مالک ہے۔ہمارا اس پر کوئی حق نہیں۔ہم پر اس کے سارے حقوق واجب ہیں۔اللہ تعالیٰ کبھی ہماری دعاؤں کو مہینوں کے بعد سنتا ہے کبھی وہ سالوں کے بعد سنتا ہے لیکن کبھی وہ اپنی شان اس رنگ میں بھی دکھاتا ہے کہ ابھی دعا کے الفاظ منہ سے نہیں نکلے ہوتے کہ وہ بات پوری ہو جاتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ دعا سنتا ہے اور بات مان لیتا ہے اور کام کر دیتا ہے۔چنانچہ بے شمار دفعہ دعاؤں کو اس رنگ میں بھی قبول ہوتے دیکھا ہے کہ ادھر دل میں خیال آیا اور اُدھر وہ بات پوری ہو گئی۔پھر بعض دفعہ دعا کے نتیجہ میں اس نے ناممکن باتوں کو ممکن بنادیا۔پس یا درکھو کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے۔کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جنا جو الہی سلسلہ کے خلفاء بنایا کرے۔“ جماعت احمدیہ کی طرف سے عقیدت و محبت کا ایمان افروز مظاہرہ اس بصیرت افروز خطبہ نے بزدل اور مفسدہ پرداز منافقین کے سراسر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کی دھجیاں اڑا دیں جس کے بعد عشاق خلافت خصوصاً اہل ربوہ نے اپنے مقدس اور پیارے امام کے ساتھ عقیدت و محبت کا ایسا شاندار اور ایمان افروز مظاہرہ کیا کہ خلافت ثانیہ کے عہد مبارک کی