تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 422 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 422

تاریخ احمدیت۔جلد 28 422 سال 1972ء پونڈ کا نقد انعام ملا جو انہوں نے سارے کا سارا نصرت جہاں فنڈ میں پیش کر دیا ہے۔ایک اور احمدی پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل بالوگوں صاحب جو پہلے صرف ۵ پونڈ ماہانہ کے حساب سے چندہ دے رہے تھے نے اپنا بقایا یکمشت ادا کر دیا۔ان کا کل وعدہ ۲۵۰ پونڈ کا تھا ان کی بیوی نے بھی یکصد پونڈ کا وعدہ کیا ہے۔تین اور دوستوں نے اپنے وعدے ۱۰۰ پونڈ سے بڑھا کر ۱۵۰ پونڈ کر دیئے ہیں۔اس سکیم کے اعلان اور نفاذ کے بعد حکومت اور پبلک کی نظروں میں جماعت کا وقار پہلے سے بڑھ گیا ہے۔شمال مغربی ریاست جہاں ہمارے دو سکول کھل چکے ہیں گورنر اور ان کے وزراء جماعت کو خاص عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔چنانچہ ہمارے دونوں سکولوں کا افتتاح خود کمشنر تعلیم نے کیا حالانکہ جن عمارتوں میں ہمارے سکول کھلے ہیں وہ معمولی مکانوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔۱۹۷۲ ء کی سالانہ کانفرنس کی خبر ریڈیو نائیجیریا پر مندرجہ ذیل الفاظ ( ترجمہ ) میں براڈ کاسٹ کی گئی۔یہ خبر انگریزی کے علاوہ مقامی زبانوں میں بھی دہرائی جاتی رہی۔خبر کا متن درج ذیل ہے۔نائیجیریا کے احمدیہ مسلم مشن کی بائیسویں سالانہ کا نفرنس لیگوس میں دوسرے دن میں داخل ہو چکی ہے یہ تین روزہ کا نفرنس جو کل مسلم ٹیچر ٹریننگ کالج لیگوس میں شروع ہوئی اور جس میں ملک کے طول وعرض سے نمائندگان نے شرکت کی۔اس کا افتتاح جماعت احمدیہ کے امام اور خلیفہ کے نمائندے مولوی فضل الہی انوری امیر جماعت احمدیہ نائیجیر یانے اپنے خطاب سے کیا جس میں آپ نے آئندہ سال کے لئے مشن کی سکیموں پر روشنی ڈالی۔آپ نے اعلان کیا کہ نائیجیریا کی شمال مغربی ریاست میں اس سال دو گرلز ہائی سکول کھولے جائیں گے۔اس کے علاوہ ریاست کوارا (Kwara) ریاست مغربی اور ریاست شمالی میں ہیلتھ سنٹر بھی قائم کئے جائیں گے۔اس سے قبل جماعت کی ترقیاتی رپورٹ میں امیر موصوف نے بیان کیا کہ گذشتہ سال ملک کے مختلف حصوں میں بارہ مقامات پر جماعت کے لئے تبلیغی مرکز قائم کئے گئے ہیں۔علاوہ ازیں جنگ زدہ علاقوں میں جماعت کے رفاہی ادارہ کی طرف سے بہت ساریلیف کا سامان بھی تقسیم کیا گیا ہے۔منا اور گساؤ میں دو سکول بھی کھولے گئے ہیں۔سالانہ کا نفرنس میں زیر بحث آنے والے امور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ختم نبوت۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دعوی نبوت اور ثبوت میں قرآن و احادیث اور اقوال ائمہ اسلام سے دلائل۔اسلامی تہذیب کا اثر موجودہ معاشرہ پر اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق