تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 415
تاریخ احمدیت۔جلد 28 415 سال 1972ء کے دور دراز علاقوں تک ہمارے مجاہد بھائیوں نے احمدیت کا پیغام پہنچایا اور صبح سے لے کر شام تک نہایت تندہی اور اخلاص کے ساتھ سب چھوٹے بڑے مصروف عمل رہے۔۱/۲ پریل کو صبح آٹھ بجے روز ہل کے دوست جن میں بچے ، نوجوان اور بوڑھے شامل تھے سبھی مشن ہاؤس پہنچ گئے اور ہر وفد کے انچارج کو اندراج کے ساتھ مختلف رسائل اور پمفلٹ دیئے جانے لگے اور ساتھ ہی مکرم مشنری انچارج صاحب ان کے علاقہ کی نشاندہی کر دیتے تا کہ سب احزاب مختلف علاقوں میں جا کر احسن رنگ میں کام کر سکیں۔اس کے بعد اجتماعی فوٹو اور دعا ہوئی۔اس دن سینکڑوں اشخاص سے زبانی گفتگو اور ان کے اعتراضات کے جوابات دینے کے علاوہ مختلف قسم کا لٹریچر مفت بھی تقسیم کیا گیا اور فروخت بھی کیا گیا۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے علم کلام سے متعلق کتب کے علاوہ بہائیت، عیسائیت اور ہندو ازم کا لٹریچر بھی اغیار کی دلچسپی کا موجب بنا اور بہت سا لٹریچر فروخت ہوا۔مفت لٹریچر میں ”امن کا پیغام ( فرنچ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم بائیبل میں (فرنج) اور مجلس انصار اللہ ماریشس کی طرف سے شائع شدہ دو ہینڈبل شامل ہیں۔امسال پہلے سے موجودہ لٹریچر کے علاوہ ہمارے پاس مرکز سے آنے والی نئی کتب اور دعوت الامیر کا فرینچ ترجمہ بھی تھا۔۔۔جماعتوں کی اجتماعی کوشش کے نتیجہ میں تقریباً ۵۰۰ روپے کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لٹریچر فروخت ہوا۔مکرم مشنری انچارج صاحب بھی ایک وفد کے ہمراہ سینئر، موکا اور ڈا گوچٹے کے علاقہ میں تشریف لے گئے اور انہوں نے دیگر لوگوں کے علاوہ بعض پولیس آفیسر ز کو احمدیت سے روشناس کرایا۔خاکسار ایک وفد لے کر ماریشس کے جنوب کی طرف بریطانیہ، کا نجاب، سر نیام اور Chemin - Grenier کے دیہات میں گیا۔ان علاقوں میں کثیر تعداد میں مسلمان رہتے ہیں۔چنانچہ بہت سے لوگوں سے زبانی گفتگو کی گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی غرض بیان کی گئی۔ایک بہائی اور دہریہ سے بھی دلچسپ گفتگو ہوئی جس سے حاضرین متاثر ہوئے۔ہمارے تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل پروفیسر رشید حسین صاحب بھی ایک احمدی پولیس آفیسر کے ساتھ جزیرہ کے مغرب میں بامبو کے علاقہ میں تبلیغ کرنے گئے نیز مقامی مبلغین بھی مختلف گرویوں کے ساتھ تبلیغ کے کام میں مصروف رہے۔اطفال نے سڑکوں ، گلیوں، مارکیٹوں اور بسوں کے اڈوں پر قریباً ۵۰ روپے کی کتب فروخت کیں۔اس دوران بعض مخالفین سلسلہ نے ہمارے معصوم اطفال کو برا بھلا کہا اور دھتکارا بھی مگر انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے اس غیر مناسب سلوک کو برداشت کیا اور شکر یہ ادا کر۔