تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 357
تاریخ احمدیت۔جلد 28 357 سال 1972ء طر ز عبادت اور مسجد کے بارہ میں مختلف سوالات پوچھے جن کے تسلی بخش جوابات دئے گئے۔ہماری مسجد میں محراب کے اوپر نہایت خوبصورت الفاظ میں اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں اور زائرین اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ کیا ہے اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس روز بھی اس گروپ کے ایک ممبر نے یہی سوال پوچھا کہ یہ کیا الفاظ ہیں؟ میں نے بتایا کہ یہ قرآن مجید کی ایک آیت کا حصہ ہیں اور ان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا نور ہے۔شاید میری سابقہ بات کا اثر تھا یا کوئی اور وجہ کہ ایک دوسرے طالبعلم نے فوراً یہ پوچھ لیا کہ آپ نے آیت کے اس حصہ کو ہی کیوں انتخاب کیا ہے اور اس کو محراب پر لکھنے کی کیا وجہ ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ تو لکھنے والوں کے انتخاب کی بات تھی اور ایک ازلی ابدی حقیقت کے طور پر اس کا انتخاب بہت ہی موزوں بھی ہے لیکن اس اچانک سوال پر میں کچھ پریشان سا ہو گیا کہ اس کا جواب کیا دیا جائے۔اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر اور احسان ہے کہ اس نے فوراً دستگیری فرمائی اور ایک اور جواب سمجھا دیا۔میں نے بتایا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کو پیدا کرنے والا اور اس کو قائم رکھنے والا ہے۔اس میں خدا تعالیٰ کی توحید اور قدرت دونوں کا بیان ہے جس کو نور کے ایک لفظ سے بیان کیا گیا ہے۔اس حصہ آیت کو یہاں لکھنے کی ایک ذوقی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس آیت کے عین نیچے ایک خوشنما قندیل لگی ہوئی ہے جو اپنی مختلف روشنیوں کی وجہ سے بہت خوبصورت دکھائی دیتی ہے۔جو نہی کوئی انسان اس خوشنما قندیل کو دیکھتا ہے تو یہ قرآنی آیت اس کو اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ یہ ایک قندیل کیا، زمین و آسمان میں نظر آنے والی ہر روشنی خدائے واحد و یگانہ کی پیدا کردہ ہے اور وہی بابرکت ذات ہے جو ہر نور، ہر خیر اور ہر برکت کا مبدا و منبع ہے۔ایک انگریز خاتون چند روز ہوئے مشن ہاؤس میں آئیں۔آپ عیسائی ہیں لیکن عیسائیوں کے عمل کو دیکھ کر مذہب سے متنفر ہیں۔اسی دوران ایک مسلمان ڈاکٹر کے نیک نمونہ نے ان کو اسلام سے قریب کر دیا اور وہ مزید تحقیق کے لئے لمبا سفر کر کے آئی تھیں۔اس روز اتفاق سے محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی لندن میں ہی تھے۔چنانچہ آپ نے بھی بات چیت میں شرکت فرمائی۔کافی دیر تک تفصیل سے بات چیت ہوئی۔چند کتب بھی مطالعہ کے لئے انہیں دیں۔انہوں نے ایک خط بھی ارسال کیا جس میں انہوں نے لکھا:۔"Why I am so interested in Islam۔Because I not only want proof of the existence of God, but I also want to know Him