تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 358 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 358

تاریخ احمدیت۔جلد 28 358 سال 1972ء personally, and I hope you may be able to help me۔" دہریت والحاد کے ماحول میں دن رات بسر کرنے والی ایک انگریز خاتون کے قلم سے نکلے ہوئے یہ الفاظ اس بات کا منہ بولتا ہوا ثبوت ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے گمراہی اور ظلمت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں نور اور امید کی کرنیں پیدا ہورہی ہیں۔میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ خوش آئند اور حوصلہ افزاء تبدیلی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر سے پیدا ہو رہی ہے جو ان مغربی اقوام کے دلوں پر اسلام کی حکومت کے قیام پر منتج ہوگی“۔61 برما یوم مسیح موعود علیہ السلام (۲۳ مارچ ۱۹۷۲ء) کی تقریب پر خواجہ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ کی ایک تقریر ملک کے طول و عرض میں شائع کی گئی۔خواجہ صاحب اپریل میں ایک دن کے لئے ٹانگو ( Toungoo) تشریف لے گئے جہاں ایک احمدی دوست کھبن ماؤں پیر خانصاحب کا ایک مقدمہ زیر سماعت تھا۔یہاں آپ کو ایک ہوٹل میں شام ۸ بجے سے ساڑھے دس بجے تک ۲۵-۲۰ نو جوانوں تک پیغام حق پہنچانے کی توفیق ملی۔ے مئی ۱۹۷۲ء کو احمد یہ ہال میں ملک بشارت احمد صاحب اسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ کی زیر صدارت جلسه سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم منعقد ہوا جس میں احمدی احباب کے علاوہ غیر از جماعت معززین بھی بکثرت شامل ہوئے۔صدر جلسہ، ڈاکٹر ایم جمیل صاحب، ورسا ظفر اللہ صاحب، مونکر محمود صاحب اور خواجہ بشیر احمد صاحب نے اردو، انگریزی اور برمی زبان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس سیرت پر روشنی ڈالی۔بعد ازاں ڈاکٹر جمیل احمد صاحب نے حج کی فلم دکھائی جسے مہمانوں نے بہت پسند کیا۔بعض حضرات نے اظہار افسوس کیا کہ وہ عرصہ تک اس پراپیگینڈہ کا شکار رہے کہ احمدی حج نہیں کرتے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کے متعلق جس رنگ میں تقاریر یہاں سنی گئی ہیں بہت کم سنے میں آئی ہیں۔اس سال برما کے مسلم حلقوں میں مستورات کے مساجد میں جانے یا نہ جانے کا موضوع زیر بحث تھا۔اس سلسلہ میں خواجہ صاحب کو بعض احادیث نبوی پیش کرنے کا موقع ملا۔بر مامشن کی طرف سے اپر برما کی ایک بستی کٹکائی کے ۲۸ چھن، برمی ، لا ہو اور چینی مسلمان گھرانوں کے لئے اردو، انگریزی ، چینی اور برمی لٹریچر بھجوایا گیا۔جس میں قاعدہ یسرنا القرآن اور قرآن شریف کا پارہ اول مع